عام طور پر، ہارٹ اٹیک کی شناخت کے لیے کوئی خاص یا حتمی علامات نہیں ہوتی ہیں۔ تاہم، چہرے پر ابتدائی اور بنیادی اشاروں کو…
حیدرآباد: ہارٹ اٹیک (دل کا دورہ، Heart Attack) تب ہوتا ہے جب دل کے پٹھوں کو خون اور آکسیجن پہنچانے والی کورونری شریان (Coronary Artery) میں رکاوٹ یا بلاکیج آ جاتی ہے۔ یہ بلاکیج زندگی بھر بنتی رہتی ہے۔ یعنی، دل کی شریانوں کے اندر آہستہ آہستہ پلاک (Plaque) یعنی چربی، کولیسٹرول اور دیگر مادوں کا جماؤ ہونے لگتا ہے۔ وقت کے ساتھ یہ پلاک سخت ہو جاتا ہے اور شریانوں کو تنگ کر دیتا ہے، جس سے دل تک آکسیجن سے بھرپور خون کا پہنچنا کم یا پوری طرح بند ہو جاتا ہے۔
آکسیجن کی کمی سے سینے میں بے چینی اور سانس لینے میں تکلیف سے لے کر پسینہ آنا، جی متلانا اور اچانک کمزوری محسوس ہونے جیسی علامات ہو سکتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جسم اور چہرے پر کچھ ایسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں، چاہے ہارٹ اٹیک سے کئی مہینے پہلے یا اٹیک کے دوران، جنہیں کسی بھی حال میں نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

ہارٹ اٹیک سے پہلے چہرے پر ظاہر ہونے والی علامات
برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کے مطابق، ہارٹ اٹیک کی ایک عام علامت یہ ہے کہ جبڑے، گلے یا ٹھوڑی میں بھاری پن، جکڑن یا درد محسوس ہونا، جو چہرے کی طرف پھیلتا ہے۔ اکثر اس کے ساتھ ہی چہرے اور ماتھے پر اچانک بہت زیادہ پسینہ آنے لگتا ہے اور ایسا بنا کسی جسمانی محنت یا گرمی کے اثر میں آئے ہوتا ہے۔ خون کا بہاؤ ٹھیک سے نہ ہونے کے سبب، چہرے یا ہونٹوں کی جلد پیلی یا نیلی (سائنوسس – Cyanosis) پڑ سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، چہرے، گالوں یا منہ کے آس پاس اچانک بھاری پن یا عجیب سی بے چینی محسوس ہونا بھی ان علامات میں شامل ہے جو ہارٹ اٹیک سے پہلے ظاہر ہو سکتی ہیں۔
ہارٹ اٹیک کے دوران چہرے پر ظاہر ہونے والی علامات
عام طور پر، ہارٹ اٹیک کی شناخت کرنے کے لیے چہرے پر کوئی خاص یا پکا نشان نہیں ہوتا ہے۔ تاہم، شدید کارڈیک واقعے (دل کے دورے) کے دوران، جسم پر پڑنے والے دباؤ (تناؤ) کے باعث انسان کے چہرے کے تاثرات یا رنگت بدل سکتی ہے۔ چہرہ غیر معمولی طور پر پیلا، پسینے سے تر بتر یا چپچپا دکھائی دے سکتا ہے۔ زیادہ سنگین معاملات میں، ہونٹ یا چہرہ نیلا پڑ سکتا ہے، جو جسم میں آکسیجن کی کمی کی علامت ہے۔ اگرچہ، یہ علامات صرف ہارٹ اٹیک تک ہی محدود نہیں ہیں۔ یہ کئی دیگر میڈیکل ایمرجنسیز میں بھی ہو سکتی ہیں اور انہیں دوسری علامات کے ساتھ ملا کر ہی دیکھا جانا چاہیے۔

کیا آپ کے چہرے سے پتہ چل سکتا ہے کہ آپ کے دل میں کوئی مسئلہ ہے؟
اگرچہ دل کی سنگین بیماری کے دوران چہرے میں کچھ تبدیلیاں دیکھی جا سکتی ہیں، لیکن ڈاکٹر خبردار کرتے ہیں کہ چہرے پر ایسا کوئی خاص نشان نہیں ہوتا جس سے یقینی طور پر ہارٹ اٹیک کا پتہ چل سکے۔ اس لیے، چہرے پر تبدیلیوں کا انتظار کرنے سے جان بچانے والے علاج میں تاخیر ہو سکتی ہے۔ تاہم، کچھ لوگوں میں یہ علامات واضح طور پر دکھائی نہیں دیتی ہیں۔ بعض اوقات چہرے پر خون کا بہاؤ کم ہونا یا رنگت اڑ جانا خوف، تناؤ یا جسمانی تکلیف کے باعث جسم کا ایک عام ردِعمل ہو سکتا ہے۔ اس لیے چہرے پر ظاہر ہونے والے اشاروں کو کبھی بھی بیماری کی تشخیص کا ذریعہ نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

ان علامات کو نظر انداز نہ کریں
سینے میں بے چینی ایک انتہائی اہم انتباہی (Warning) علامت ہے- میڈ لائن پلس (MedlinePlus) کے مطابق، چہرے میں تبدیلیوں کو دیکھنے کے بجائے، ہارٹ اٹیک کی عام علامات کو پہچاننا زیادہ ضروری ہے۔ ماہرین کے مطابق، سینے میں دباؤ, بھاری پن یا بے چینی ایک بنیادی انتباہی علامت ہے، خاص طور پر تب جب یہ مسلسل برقرار رہے یا بار بار ہو۔ یہ بے چینی سینے سے آگے بڑھ کر ان حصوں تک بھی پھیل سکتی ہے: جیسے کہ
- ہاتھ یا کندھے میں درد
- پیٹھ میں درد
- گلے میں درد
- جبڑے میں درد
اس کے علاوہ انسان کو سانس لینے میں تکلیف، ٹھنڈے پسینے آنا، جی متلانا، چکر آنا یا اچانک غیر معمولی کمزوری محسوس ہو سکتی ہے۔ ہر کسی کو یہ تمام علامات محسوس نہیں ہوں گی اور ان کی شدت ہر شخص میں مختلف ہو سکتی ہے۔
ہارٹ اٹیک کی علامات ہمیشہ عام یا آسانی سے پہچانی جانے والی نہیں ہوتی ہیں
سب سے بڑے چیلنجوں میں سے ایک یہ ہے کہ ہارٹ اٹیک کی علامات ہمیشہ ویسی نہیں ہوتیں جیسی فلموں یا ٹی وی پر دکھائی جاتی ہیں۔ کچھ لوگوں کو بہت ہلکی یا غیر معمولی علامات محسوس ہو سکتی ہیں۔ اس سے دل کے سنگین مسئلے کو بدہضمی، تھکن یا معمولی بیماری سمجھ کر نظر انداز کرنے کی غلطی ہو سکتی ہے۔ یہ ان لوگوں کے لیے خاص طور پر اہم ہے جن میں کچھ رسک فیکٹرز (خطرناک عوامل) ہیں، جیسے کہ ذیابیطس (Diabetes/شوگر)۔
ذیابیطس (شوگر) کی وجہ سے ‘سائلنٹ’ (Silent) ہارٹ اٹیک کیوں ہو سکتا ہے؟
طویل عرصے سے ذیابیطس سے جوجھ رہے لوگوں میں کبھی کبھی اعصاب کو نقصان (Nerve Damage) پہنچ سکتا ہے، جس سے درد محسوس کرنے کی ان کی صلاحیت پر اثر پڑتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ذیابیطس والے لوگوں میں (خاص طور پر جنہیں طویل عرصے سے یہ بیماری ہے) ہارٹ اٹیک کبھی کبھی ‘سائلنٹ’ (خاموش) ہو سکتا ہے کیونکہ اعصاب کو نقصان پہنچنے سے سینے میں درد کا احساس کم ہو سکتا ہے۔ سینے میں واضح درد کے بجائے، انہیں سانس پھولنا، بہت زیادہ تھکن، بغیر کسی واضح وجہ کے بے چینی، پسینہ آنا، اپچ (بدہضمی) یا بار بار ڈکار آنے جیسی علامات محسوس ہو سکتی ہیں۔ ان علامات کو آسانی سے پیٹ کا مسئلہ (گیسٹرک ایشو) سمجھا جا سکتا ہے، خاص طور پر تب جب سینے میں کوئی تکلیف نہ ہو۔
تاہم، نئی علامات یا بغیر کسی واضح وجہ کے ظاہر ہونے والی علامات کو فوری طور پر ایسیڈٹی (تیزابیت) یا بدہضمی کا نتیجہ نہیں ماننا چاہیے، خاص طور پر تب جب وہ جسمانی سرگرمی یا محنت کے دوران ہوں۔
غیر معمولی علامات کو کب سنجیدگی سے لینا چاہیے؟
اگر آپ کو اپنی طبیعت میں اچانک کوئی تبدیلی محسوس ہو (خاص طور پر جسمانی محنت یا ورزش کے دوران) اور یہ تبدیلی غیر معمولی ہو یا مسلسل برقرار رہے، تو آپ کو اس پر فوری توجہ دینی چاہیے۔ ایسی غیر معمولی علامات کو فوراً صرف گیس کا مسئلہ سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے، خاص طور پر تب جب وہ بالکل نئی ہوں یا جسمانی سرگرمی کے دوران ظاہر ہو رہی ہوں۔ یہ ان لوگوں کے لیے انتہائی ضروری ہے جنہیں دل کی بیماری کا خطرہ ہے، جیسے کہ وہ لوگ جنہیں ذیابیطس (شوگر)، ہائی بلڈ پریشر، یا ہائی کولیسٹرول ہے، جو سگریٹ نوشی کرتے ہیں، یا جن کی پہلے دل کی بیماری کی ہسٹری رہ چکی ہے۔ شروعاتی طبی معائنے (میڈیکل چیک اپ) سے یہ پتہ لگانے میں مدد مل سکتی ہے کہ یہ علامات دل سے جڑی ہیں یا کسی اور بیماری سے۔
(دستبرداری/ڈسکلیمر: یہاں دی گئی صحت سے متعلق معلومات اور مشورے صرف تعلیمی مقاصد کے لیے ہیں۔ ہم یہ معلومات سائنسی تحقیق، مطالعہ جات اور طبی و صحت کے ماہرین کی سفارشات کی بنیاد پر فراہم کر رہے ہیں۔ ان مشوروں پر عمل کرنے سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا سب سے بہتر ہوگا۔)

