نیویارک +لندن :عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں پیر کو 2 فیصد سے زائد اضافہ ہوا، جس کی بڑی وجہ سعودی عرب پر حوثیوں کے تازہ حملوں اور آبنائے ہرمز کی غیر معینہ مدت تک بندش کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہے۔ سعودی عرب کی اہم ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن کی بندش نے بھی سپلائی کے خدشات کو مزید بڑھا دیا۔
برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودے 2.90 ڈالر یا 2.77 فیصد اضافے کے ساتھ 107.51 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے، جبکہ ڈبلیو ٹی آئی کے سودے 2.27 ڈالر یا 2.27 فیصد بڑھ کر 102.32 ڈالر فی بیرل ہوگئے۔ کاروبار کے آغاز پر قیمتوں میں 3 فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔
رواں ہفتے تیل کی قیمتوں میں 8 فیصد اضافہ ہوچکا ہے اور یہ جولائی کے بعد پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر گئی ہیں۔
دوسری طرف امریکی دباؤ پرعمان میں ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق ہونے والا اہم سفارتی اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا ہے۔
آبنائے ہرمز کی غیر معینہ مدت تک بندش کا خدشہ،برینٹ خام تیل 107 ڈالر سے تجاوز کر گیا

