اسلام آباد: پاکستان میں مہنگائی کے ستائے عوام کے لیے مشکلات کا سلسلہ جاری ہے، جہاں موجودہ ہفتے کے دوران سالانہ بنیادوں پر ہفتہ وار مہنگائی میں 8.62 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
پاکستان بیورو آف شماریات (PBS) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال کے اسی ہفتے کے مقابلے میں روزمرہ استعمال کی اشیا اور ایندھن کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پیاز کی قیمت میں سب سے زیادہ 125.52 فیصد، ایل پی جی میں 55.42 فیصد، ڈیزل میں 45.26 فیصد اور پیٹرول کی قیمت میں 39.10 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے۔
اسی طرح گندم کا آٹا 30.18 فیصد، پہلی سہ ماہی کے دوران بجلی کے نرخ 25.24 فیصد، پسی ہوئی سرخ مرچ 16.37 فیصد، مٹن 15.92 فیصد، بیف 13.28 فیصد، کیلے 10.51 فیصد، تازہ دودھ 8.12 فیصد اور سادہ ڈبل روٹی 8.09 فیصد مہنگی فروخت ہو رہی ہے۔
دوسری جانب، حکومت اور عوام کے لیے کچھ اشیا کی قیمتوں میں معمولی کمی بھی دیکھنے میں آئی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق آلو کی قیمت میں 35.21 فیصد، مرغی کے گوشت میں 24.30 فیصد، چینی میں 20.88 فیصد، انڈوں میں 19.95 فیصد، ٹماٹر میں 17.65 فیصد، نمک میں 13.96 فیصد، چنے کی دال میں 13.52 فیصد اور مسور کی دال کی قیمت میں 12.26 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ پیاز اور توانائی کی مصنوعات کی قیمتوں میں بے لگام اضافے نے متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کا کچومر نکال کر رکھ دیا ہے۔
ہفتہ وار مہنگائی میں 8.62 فیصد اضافہ، پیاز، ایل پی جی اور ایندھن مزید مہنگے

