تحریر :محمد اشفاق پسرور
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
یہ بھارتی فوج کا کرنل ہے، کرنل راجیش پوار
دو روز قبل اس نے ایک ٹی وی شو میں بیٹھ کر دس مرتبہ ایک بات دوہرائی، کم سے کم اس نے دس مرتبہ ایک فقرہ ڈنکے کی چوٹ پر کہا ۔۔۔
کہ زمین افغانستان دے رہا ہے، ٹیکنالوجی اسرائیل دے رہا ہے اور پیسہ ہندوستان دے رہا ہے۔
اور ہم تین ملک کے پی اور بلوچستان میں کاروائیاں کر رہے ہیں ۔۔۔
کرنل پوار نے اینکر کے بار بار وضاحت مانگنے پر یہ بات الگ الگ زاویوں سے کھول کھول کر بیان کی کہ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کو پناہ گاہیں اور تربیت گاہیں افغانستان فراہم کر رہا ہے۔۔ پیسہ ہندوستان لگا رہا ہے اور استعمال ہونے والے جدید ترین، مہنگے ترین اور خطرناک ترین ہتھیار اسرائیل کی جانب سے فراہم کیے جا رہے ہیں۔
بھارتی فوجی افسر نے دو ٹوک طریقے سے کہا کہ تینوں ملکوں کا مفاد ایک ہی پے۔
پاکستان میں سی پیک سمیت جاری تمام ترقیاتی منصوبوں کو نشانہ بنانا ،،، فوج، ایف سی ،پولیس سمیت تمام سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں علیحدگی پسند جنگجووں کو زیادہ سے زیادہ پیسے اور ہتھیاروں کی سپورٹ فراہم کرنا اور خاص طور پر پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں تک رسائی اور ان تنصیبات کو تباہ کرنے کی کوشش کرنا۔
اینکر نے پوچھا کہ اس سب میں ہندوستان کا مفاد تو ہے ہی ہے۔۔ لیکن اسرائیل کا کیا مفاد ہے؟؟
اس پر کرنل پوار نے کہا کہ پاکستان دنیا میں ایک ہی اسلامی ملک ہے جس کے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں اور وہ اسرائیل کو بطور ملک ماننے سے انکار بھی کرتا ہے ۔
جب کہ لگ بھگ سارے مسلم ملک اسرائیل کو تسلیم کر چکے ہیں سوائے پاکستان کے۔۔۔ اسرائیل اپنے لئے پاکستان سے بڑا خطرہ کسی اور ملک کو نہیں سمجھتا ۔۔ اور اسے لگتا ہے کہ پاکستان یہ ہتھیار اسرائیل کے خلاف استعمال کر سکتا ہے۔
اور یہ محض کوئی اتفاق نہیں ہے کہ پچھلے چھ آٹھ ماہ میں کوئی ایک درجن کے قریب مرتبہ خود اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل اور ان کے کئی ورکنگ گروپ بھی یہ بات کہہ چکے ہیں کہ افغانستان میں ہزاروں کی تعداد میں ایسے عسکریت پسند اور فدائی حملہ آور موجود ہیں جو کئی مرتبہ سرحد پار کر کے پاکستانی خیبر پختونخوا اور پاکستانی بلوچستان کے اندر گھس کر وہاں کئی بہت بڑے اور سنگین حملے کر چکے ہیں ۔۔ اور ان حملوں میں ہزاروں سکیورٹی اہلکاروں اور عام شہریوں کو موت کے گھاٹ اتارا جا چکا ہے۔
یہ حملے اتنے منظم، بار آور اور موثر ہوتے ہیں کہ حملہ آور بڑی سرعت سے کاروائیاں کر کے محفوظ پناہ گاہوں میں چھپ جاتے ہیں۔ یہی وہ گوریلا وار ہے ۔۔ جسے آج کے ٹیکنالوجی کے دور میں بھی بڑی فوجی طاقتوں اور جدید سے جدید ہتھیار رکھنے والے ملک بھی روک نہیں پاتے ہیں کیونکہ ساری کاروائیاں بڑی باریکی سے اور پوری انٹیلیجنس سے دوسرے ملک میں بیٹھ کر کنٹرول کی جاتی ہیں ۔۔ اور حملہ آور اپنی شناخت، نام، چہرہ سب چھپانے میں بھی کامیاب ہو جاتے ہیں۔
اس لئے جتنا جلد ہو سکے اور جہاں جہاں سے ممکن ہو، افغان شہریوں کو جلد از جلد سرحد پار واپس بھیجا جائے ان کا انخلاء مکمل کیا جائے۔۔ بارڈر سکیورٹی بڑھائی جائے، تاکہ ساری کی ساری توجہ ملک کے اندر عسکریت پسندوں کے خلاف موثر اور مربوط کاروائیاں عمل میں لائی جا سکیں۔ انہیں ہتھیاروں اور فنڈز کی سپلائی روکی جائے ۔۔
لیکن سب سے زیادہ اہم کام اپنی میزائل اور جوہری ہتھیاروں کی ٹیکنالوجی کو محفوظ سے محفوظ اور بہتر سے بہتر بنانا ہو گا
تاکہ اگر وطن عزیز کے وجود کو خدا نخواستہ اگر کوئی خطرات لاحق ہو جائیں تو ایک آخری آپشن ہمارے پاس یہ ضرور ہاتھ رہنا چاہیے، کہ اپنے ساتھ ان دو ملکوں کو مکمل طور پر لاشوں کا ڈھیر اور ملبہ بنا کر ہی جائے۔


