ریاض / واشنگٹن:سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے جمعرات کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دو مرتبہ ٹیلی فون کر کے یمن میں سرگرم حوثی باغیوں کے خلاف براہِ راست فوجی حملے شروع کرنے پر زور دیا ہے، تاہم امریکی صدر نے اس مطالبے کو فی الحال قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
معروف امریکی جریدے ’ایگزیوس‘ (Axios) نے دو اعلیٰ امریکی عہدیداروں کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے حوثیوں کے خلاف براہِ راست فوجی کارروائی فی الحال زیرِ غور نہیں ہے۔
یروشلم پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکہ براہِ راست جنگ میں کودنے سے گریزاں ہے مگر وہ اس تنازع میں سعودی عرب کی بھرپور پشت پناہی کر رہا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے اسی سلسلے میں ریاض کا دورہ کیا اور اہم سیکیورٹی ملاقاتیں کیں۔ واشنگٹن کی جانب سے سعودی عرب کو حوثیوں کے خلاف انٹیلی جنس معلومات اور ہدف کے تعین (targeting data) کا نظام فراہم کیا جا رہا ہے، جبکہ تقریباً 200 امریکی فوجی اہلکار پہلے ہی سعودی عرب میں موجود ہیں جو نان کائینیٹک (غیر عسکری نوعیت کی) معاونت فراہم کر رہے ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سینئر اہلکار نے اسٹریٹجک مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی بنیادی توجہ بحیرہ احمر میں جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانے پر مرکوز ہے، جبکہ خطے کی دیگر وسیع تر جنگی ذمہ داریوں اور سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے وہ اپنے علاقائی اتحادیوں کو ہی آگے لانا چاہتا ہے۔

