تل ابیب:ایک ایسے وقت میں جب غزہ اور مشرق وسطیٰ جنگ کی ہولناکیوں کا شکار ہیں، اسرائیلی سرکاری اعداد و شمار نے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور ان کی اہلیہ سارہ نیتن یاہو کے شاہانہ اور عیاشانہ طرزِ زندگی کا پول کھول دیا ہے۔
سرکاری دستاویزات سے انکشاف ہوا ہے کہ 2019 سے اب تک سرکاری خزانے سے بالوں کے اسٹائل اور کاسمیٹکس پر لگ بھگ 14 لاکھ 30 ہزار شیکل (تقریباً 477,000 امریکی ڈالر) لٹا دیے گئے، جن میں سے 90 فیصد اکیلے نیتن یاہو اور ان کی اہلیہ نے خرچ کیے۔
اسرائیل کی ‘فریڈم آف انفارمیشن موومنٹ’ کی جانب سے عدالت میں دائر کی گئی درخواست پر سامنے آنے والی ان تفصیلات نے ملک بھر میں ایک نیا طوفان کھڑا کر دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، اخراجات کی اس داستان کا سب سے شرمناک پہلو اکتوبر 2023 کا مہینہ ہے—یعنی وہی مہینہ جب غزہ میں خونریز جنگ کا آغاز ہوا تھا اور عام شہری تباہی کا سامنا کر رہے تھے—اس دوران بھی وزیراعظم کے بال سنوارنے اور بیوٹی سروسز پر ہزاروں شیکل پانی کی طرح بہائے جا رہے تھے۔
رپورٹ کے مطابق، سال 2025 اس مد میں سب سے مہنگا ترین سال ثابت ہوا جس دوران تقریباً 337,000 شیکل خرچ کیے گئے۔ عیاشی کا یہ عالم صرف اسرائیل کی حد تک محدود نہیں تھا بلکہ بیرون ملک دوروں کے دوران بھی شاہانہ پروٹوکول برقرار رکھا گیا۔ فروری 2025 میں نیتن یاہو کے دورۂ واشنگٹن کے موقع پر اکیلے ایک ہیوٹیشن اور ہیئر اسٹائلسٹ کو تقریباً 13,500 ڈالر ادا کیے گئے، جبکہ جولائی 2024 کے واشنگٹن دورے پر بھی 11,500 ڈالر سے زائد اڑائے گئے۔
اس کے برعکس، نیتن یاہو کے درمیان اقتدار سنبھالنے والے دیگر وزرائے اعظم جیسے نفتالی بینیٹ اور یائر لاپید کے ادوار میں اس طرح کے ذاتی تزئین و آرائش کے اخراجات انتہائی کم رہے۔ اس سنسنی خیز انکشاف کے بعد جہاں عام اسرائیلی شہریوں میں شدید اشتعال پایا جاتا ہے، وہیں اپوزیشن رہنماؤں نے جنگی حالات میں قومی خزانے کی اس بے دردی سے لوٹ مار پر کڑی تنقید کی ہے۔
غزہ کے قاتل نیتن یاہو اور اسکی بیوی کے بننے سنورنے پر سالانہ کتنا خرچ آیا ؟ ہوشربا اسکینڈل منظر عام پر

