ماہرین سے گلوکوما اور موتیا بن کے درمیان فرق جانیں، ان میں کون سی علامات ان امراض کی تشخیص میں مدد دیتی ہیں۔
حیدرآباد: عام طور پر 50 سال سے زائد عمر کے افراد میں آنکھوں سے متعلق مسائل زیادہ دیکھے جاتے تھے، لیکن آج کل ہر عمر کے افراد آنکھوں کی مختلف پریشانیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ خاص طور پر گلوکوما اور موتیا جیسی بیماریاں عام ہوتی جا رہی ہیں۔ یہ دونوں آنکھوں کی سنگین بیماریاں ہیں۔ اگر ان کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو متاثرہ شخص مکمل طور پر اپنی بینائی سے محروم ہو سکتا ہے۔
اگرچہ گلوکوما اور موتیا بظاہر ایک جیسے محسوس ہو سکتے ہیں، لیکن ماہرینِ صحت کے مطابق دونوں بیماریوں میں کافی فرق ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بروقت معائنہ اور مناسب علاج کے ذریعے آنکھوں کی صحت کو محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ آئیے، اس خبر میں ان دونوں بیماریوں کے بارے میں تفصیل سے جانتے ہیں۔
گلوکوما کیا ہے؟
کلیولینڈ کلینک کے مطابق، گلوکوما آنکھوں کی ایک خطرناک بیماری ہے، جس کی علامات آسانی سے ظاہر نہیں ہوتیں۔ بہت سے لوگوں میں اس بیماری کا اس وقت پتہ چلتا ہے جب یہ کافی بڑھ چکی ہوتی ہے۔ اس وقت تک ان کی بینائی کافی متاثر ہو چکی ہوتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ گلوکوما کی بروقت تشخیص انتہائی ضروری ہے، کیونکہ یہ بتدریج بینائی کو ختم کرتا ہے اور مستقل اندھے پن کا سبب بن سکتا ہے۔ اسی لیے اسے آنکھوں کا خاموش قاتل یا خاموشی سے بینائی چھیننے والا‘ بھی کہا جاتا ہے۔
گلوکوما موتیا سے مختلف بیماری ہے، گلوکوما بنیادی طور پر آپٹک نرو کو نقصان پہنچاتا ہے، جو آنکھ سے دماغ تک بصری معلومات پہنچانے کا کام کرتی ہے۔
گلوکوما کی وجوہات
ماہرین کے مطابق گلوکوما کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں جن میں:
ہائی بلڈ پریشر
سگریٹ نوشی
کیفین کا استعمال
آنکھ کے ڈرینیج اینگل کو نقصان پہنچنا
آنکھ میں چوٹ لگنا
عمر میں اضافہ
جینیاتی عوامل
گلوکوما کی علامات
گلوکوما کی علامات فوری طور پر ظاہر نہیں ہوتیں۔ ابتدائی مرحلے میں آنکھوں کے سامنے دھندلے دھبے بننے لگتے ہیں، جو وقت کے ساتھ بڑھتے جاتے ہیں۔ یہ دھبے پیری فیرل وژن یعنی آس پاس کی چیزوں کو دیکھنے کی صلاحیت کو متاثر کرتے ہیں۔
اس کے علاوہ جن افراد کی آنکھوں کے اندر دباؤ یعنی انٹرا اوکیولر پریشر زیادہ ہوتا ہے، انہیں صبح کے وقت سر درد یا دھندلی نظر کی شکایت ہو سکتی ہے۔ بیماری کی حالت سنگین ہونے پر کچھ علامات واضح طور پر ظاہر ہونے لگتی ہیں۔
آنکھوں میں شدید درد
آنکھوں کا سرخ ہونا
دھندلی نظر
سر درد
متلی
قے
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر متلی اور قے جیسی علامات کے ساتھ آنکھوں میں تکلیف ہو تو فوری طور پر ماہرِ چشم سے رجوع کرنا انتہائی ضروری ہے۔
گلوکوما کا علاج
ماہرین کے مطابق گلوکوما کی جتنی جلد تشخیص ہو جائے اور علاج شروع کیا جائے، اتنا ہی بینائی کو محفوظ رکھنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ بعض مریضوں میں سرجری کی ضرورت بھی پڑ سکتی ہے۔ بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں بینائی مستقل طور پر ختم ہو سکتی ہے۔ماہرین کا مشورہ ہے کہ آنکھوں کی صحت برقرار رکھنے کے لیے سال میں کم از کم ایک مرتبہ آنکھوں کا معمول کا معائنہ کروانا فائدہ مند ہے۔
گلوکوما کا خطرہ کن افراد کو زیادہ ہوتا ہے؟
40 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد میں گلوکوما کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق جن افراد کے خاندان میں گلوکوما کی ہسٹری رہی ہو، جن کی آنکھوں کا دباؤ یا بلڈ پریشر زیادہ ہو یا جو ذیابیطس میں مبتلا ہوں، ان میں بھی گلوکوما کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
اس کے علاوہ اسٹیرائڈز استعمال کرنے والے افراد، آنکھوں میں چوٹ لگنے کی ہسٹری رکھنے والے افراد، مائیگرین، خون کی خراب گردش، دیگر صحت کے مسائل، مایوپیا یعنی دور کی نظر کمزور ہونے یا ہائپروپیا (Hyperopia) یعنی قریب کی نظر کمزور ہونے والے افراد میں بھی اس بیماری کا خطرہ ہو سکتا ہے۔
موتیا بن کیا ہے؟
کلیولینڈ کلینک کے مطابق موتیا بن بھی اندھے پن کی ایک اہم وجہ ہے۔ یہ بنیادی طور پر آنکھ کے لینس کو متاثر کرتا ہے۔ تاہم ماہرینِ چشم کے مطابق اگر موتیا کی بروقت تشخیص ہو جائے تو معمول کی سرجری کے ذریعے اس کا علاج کیا جا سکتا ہے۔
ابتدائی مرحلے میں بیماری کی شناخت اور مناسب علاج سے بینائی کے مکمل طور پر بہتر ہونے کے امکانات کافی زیادہ رہتے ہیں۔
موتیا کی وجوہات
موتیا مختلف وجوہات کی وجہ سے ہو سکتا ہے، جن میں:
گلوکوما
ذیابیطس
گردوں کی بیماری
آنکھوں میں چوٹ
سگریٹ نوشی
آنکھ کے اندر سوزش
بعض اقسام کی ادویات
آنکھوں میں انفیکشن
موتیا کی علامات اور پیچیدگیاں
موتیا ہونے کی صورت میں درج ذیل علامات ظاہر ہو سکتی ہیں:
ایک چیز کا دو نظر آنا
گاڑی چلانے میں دشواری
آنکھ کی پتلی میں دھندلا پن
دھندلی نظر
رات کے وقت کم نظر آنا
کم روشنی میں پڑھنے میں دشواری
آنکھ میں سفیدی نظر آنا
بھنوؤں کا غیر ارادی طور پر پھڑکنا
موتیا کا علاج
ماہرینِ صحت کے مطابق ابتدائی مرحلے میں موتیا کی تشخیص اور علاج کرانے سے بینائی کے مکمل طور پر بہتر ہونے کے امکانات رہتے ہیں۔ تاہم، اگر موتیا زیادہ بڑھ جائے تو سرجری نسبتاً مشکل ہو سکتی ہے۔ سرجری کے بعد انفیکشن کا خطرہ بھی موجود رہتا ہے۔
اسی لیے ڈاکٹروں کا مشورہ ہے کہ موتیا کی بروقت تشخیص کی جائے اور بیماری کے ابتدائی مرحلے میں ہی مناسب علاج کروایا جائے، تاکہ بینائی کو زیادہ سے زیادہ محفوظ رکھا جا سکے۔

