اسلام آباد:قومی سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے ملکی تاریخ کے سب سے بڑے ڈیٹا سیکیورٹی اسکینڈل کا پردہ فاش کرتے ہوئے نادرا کا انتہائی حساس اور محرمانہ ڈیٹا چوری کرنے والے ایک بین الصوبائی نیٹ ورک کے دو مرکزی کارندوں کو دبوچ لیا ہے۔ ملزمان کے قبضے سے ایک کروڑ سے زائد پاکستانی شہریوں کا نجی اور خاندانی ریکارڈ برآمد ہوا ہے جسے وہ باقاعدہ ایک غیر قانونی آن لائن پلیٹ فارم کے ذریعے فروخت کر رہے تھے۔
ذرائع کے مطابق طہٰ اور زوہیب نامی دونوں ملزمان آئی ٹی اور سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ کا پیشہ ورانہ پس منظر رکھتے ہیں جنہوں نے جدید سرورز کی مدد سے ’منی نادرا‘ کے نام سے ایک متوازی اور غیر قانونی پورٹل قائم کر رکھا تھا۔ اس مکروہ دھندے کے ذریعے شہریوں کے قومی شناختی کارڈ نمبرز، فیملی شجرہ، نجی فون نمبرز اور رہائشی پتے چند روپوں کے عوض فروخت کیے جا رہے تھے۔ این سی سی آئی اے کے سائبر انٹیلی جنس ونگ نے جدید جیو فینسنگ، ڈیجیٹل فٹ پرنٹس اور مالیاتی ٹرانزیکشنز کا پیچھا کرتے ہوئے ایک ہنگامہ خیز چھاپہ مار کارروائی میں دونوں ملزمان کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر کے ان کے لیپ ٹاپس اور ہارڈ ڈرائیوز تحویل میں لے لیں۔
گرفتاری کے بعد ملزمان کو اسپیشل جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں عدالت نے تفتیش کے لیے ان کا جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا ہے۔ ابتدائی تفتیش سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزمان نادرا یا اس سے منسلک اداروں کے لاگ ان کریڈنشیلز کو غیر قانونی طور پر استعمال کرتے ہوئے مرکزی ڈیٹا بیس تک رسائی حاصل کرتے تھے۔ اس سنسنی خیز انکشاف کے بعد سوشل میڈیا پر ہنگامہ مچ گیا ہے اور عام شہریوں سمیت ٹیکنالوجی کے ماہرین نے نادرا کے فائر والز اور سیکیورٹی سسٹمز کی کارکردگی پر شدید سوالات اٹھا دیے ہیں۔ دوسری جانب، ایجنسی نے تمام مسروقہ پورٹل لنکس کو بلاک کرتے ہوئے پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے، اور اس نیٹ ورک کے پیچھے چھپے تمام اندرونی و بیرونی سہولت کاروں کی تلاش کے لیے گھیرا تنگ کر دیا گیا ہے۔
ایک کروڑ سے زائد پاکستانیوں کا خفیہ ڈیٹا لیک: ’منی نادرا‘ چلا کر شہریوں کی نجی معلومات بیچنے والا خطرناک گروہ گرفتار

