واشنگٹن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری تنازع نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد ختم ہو سکتا ہے، کیونکہ تہران اب اس جنگ کو مزید جاری رکھنے کی سکت نہیں رکھتا۔
ٹیکساس روانہ ہونے سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے لیکن وہ طویل عرصے تک اس تصادم کو برداشت نہیں کر پائے گا۔ ایران کے ساتھ ممکنہ مذاکرات سے متعلق ایک سوال پر انہوں نے واضح کیا کہ ان کی انتظامیہ فی الحال باضابطہ مذاکرات کی تلاش میں نہیں ہے، تاہم انہوں نے اس امکان کو مکمل طور پر رد بھی نہیں کیا اور اشارہ دیا کہ کسی بھی ممکنہ سمجھوتے میں صرف جوہری پروگرام ہی نہیں بلکہ دیگر امور بھی شامل ہوں گے۔ ٹرمپ نے یہ بھی بتایا کہ آبنائے ہرمز میں حالیہ امریکی کارروائیوں کے دوران ایران کے لگ بھگ نو ٹینکرز کو ناکارہ بنایا گیا ہے، اور ضرورت پڑنے پر مزید فوجی اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔
دوسری جانب، روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ ٹیلیفونک رابطے کے بعد روس-یوکرین جنگ کے خاتمے سے متعلق بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے پرامید لہجہ اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پوتن "معاہدہ کرنا چاہتے ہیں” اور یوکرینی صدر ولادیمیر زیینسکی اگر راضی ہوں تو روس، یوکرین اور امریکا کے درمیان سہ فریقی ملاقات بھی ممکن ہے۔ کریملن کے مطابق، پوتن نے ٹرمپ کو بتایا کہ روس کے یورپ کے خلاف کوئی جارحانہ ارادے نہیں ہیں، جبکہ امریکی ثالثوں کی ماسکو اور کییف کی حالیہ دوروں کے بعد جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں تیز تر ہو چکی ہیں۔

