واشنگٹن ڈی سی :امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا کے پاس اسلحے کا کافی ذخیرہ موجود ہے اور جو لوگ ایسی خبریں پھیلا رہے ہیں انہیں جیل جانا پڑ سکتا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ کے پاس ہتھیاروں اور گولہ بارود کا بہت بڑا ذخیرہ موجود ہے اور ملک دفاعی پیداوار میں تیزی سے اضافہ کر رہا ہے۔
ٹرمپ کا یہ بیان ان خبروں کے بعد سامنے آیا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ امریکی اسلحے کے ذخائر پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔
ٹرمپ نے ان رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حساس معلومات افشا کرنے یا اس بارے میں گمراہ کن خبریں پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی، اور انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کسی نے خفیہ معلومات لیک کیں تو اسے جیل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
دوسری طرف امریکی اخبار دی واشنگٹن پوسٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیمپ ڈیوڈ میں ہونے والے ایک اجلاس کے دوران وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ سے امریکی فوج کے اہم میزائلوں اور گولہ بارود کی شدید کمی پر سخت سوالات کیے۔ تاہم وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون نے اس رپورٹ کو مکمل طور پر غلط اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔
واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق کیمپ ڈیوڈ میں ہونے والے اجلاس کے دوران صدر ٹرمپ نے وزیر دفاع سے پوچھا کہ انہیں اس بات سے مکمل طور پر آگاہ کیوں نہیں کیا گیا کہ امریکی فوج کے میزائلوں کے ذخائر اتنی تیزی سے کم ہو چکے ہیں۔ اخبار نے معاملے سے واقف دو افراد کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ میرا خیال تھا کہ اسلحے کی کمی کا مسئلہ حل ہو چکا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے جدید میزائلوں اور فضائی دفاعی نظام میں استعمال ہونے والے انٹرسیپٹر میزائلوں کی کمی کے باعث صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف مزید بڑے فوجی حملوں کی منظوری دینے سے گریز کیا اور یہی کمی امریکی فیصلوں پر اثر انداز ہوئی۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق یہ مبینہ تلخ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی جب چند روز قبل صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ انہوں نے دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے بڑے حملے کا حکم دیا تھا، تاہم آبنائے ہرمز سے متعلق نئی سفارتی بات چیت کی وجہ سے بعد میں اس کارروائی کو روک دیا گیا۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے اجلاس میں اپنا دفاع کرتے ہوئے الزام لگایا کہ نائب وزیر دفاع اسٹیفن فائن برگ صدر ٹرمپ کو اسلحے کی کمی کی مکمل صورتحال سے آگاہ کرنے میں ناکام رہے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون نے ان تمام دعوؤں کو سختی سے مسترد کر دیا۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ میں کیمپ ڈیوڈ میں صدر ٹرمپ اور وزیر دفاع ہیگستھ کے ساتھ موجود تھی۔ یہ واقعہ سرے سے پیش ہی نہیں آیا۔ ہم نے واشنگٹن پوسٹ کو بھی بار بار یہی بتایا تھا۔ یہ مکمل طور پر جھوٹی کہانی ہے جس کا مقصد کسی نہ کسی وجہ سے وزیر دفاع کو بدنام کرنا ہے۔ بدقسمتی سے ان لوگوں کے لیے صدر ٹرمپ وزیر دفاع سے محبت کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ بہترین کام کر رہے ہیں۔
امریکی گولہ بارود ختم ہونے پر صدر ٹرمپ کی وزیرجنگ سے منہ ماری، واشنگٹن پوسٹ، اسلحے بارے خبر دینے والے جیل جائینگے ، امریکی صدر

