کیلے فورنیا:ٹیکنالوجی کی دنیا کی معروف ترین کمپنی ایپل نے جمعرات کو اشارہ دیا ہے کہ اس کے مصنوعی ذہانت (AI) سے لیس انتہائی طاقتور اور نئے ‘سری’ (Siri) کو حد سے زیادہ استعمال کرنے والے صارفین کو اس کے حصول کے لیے فیس ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
یہ پہلا موقع ہے جب ایپل کی طرف سے باضابطہ طور پر تصدیق کی گئی ہے کہ وہ اپنے اس نئے اور انقلابی وائس اسسٹنٹ کے پریمیم یا زیادہ استعمال پر چارجز وصول کرے گا۔
مالیاتی نتائج پر کانفرنس کال کے دوران ایپل کے سی ای او ٹم کک نے واضح کیا کہ کمپنی اس جدید ترین وائس اسسٹنٹ کی بھاری کمپیوٹنگ لاگت اور اخراجات سے نمٹنے کے لیے ایک جامع پلان تیار کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ "ہمیں یقین ہے کہ کچھ ایسے صارفین ہوں گے جو اسے بہت زیادہ استعمال کرنا چاہیں گے، اس لیے ہم آئی کلاؤڈ پلس (iCloud+) پر کسی نہ کسی اپ گریڈ کی سہولت فراہم کریں گے۔”
ذرائع اور تجزیہ کاروں کے مطابق ایپل اپنے اس نئے ‘سری’ کو طاقتور بنانے کے لیے جزوی طور پر گوگل جیمنی (Google Gemini) کے ماڈلز پر بھی انحصار کر رہا ہے، جس کی وجہ سے انفراسٹرکچر کے اخراجات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
ایپل نے طویل انتظار کے بعد جون میں اس اپ گریڈ کا اعلان کیا تھا، جس کا پبلک بیٹا رواں ماہ جاری کیا گیا ہے جبکہ اس کی باضابطہ اور وسیع پیمانے پر دستیابی اس سال خزاں میں نئے آئی فونز کے اعلان کے ساتھ متوقع ہے۔ ٹم کک کا کہنا ہے کہ ابتدائی مثبت ردعمل اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پرائیویسی اور ذاتی نوعیت پر مبنی یہ نئی اے آئی ٹیکنالوجی صارفین کی زندگیوں میں انقلاب برپا کر دے گی۔
ایپل کا بڑا بم: اب ”ہیلو ‘سری’ (Siri) “ سے پوچھنے کے لیے آئی فون صارفین کو بڑی قیمت چکانا ہوگی!

