سکھر (رپورٹ/ عبد الرحمان راجپوت )
نیو پنڈ بھوسہ لائن، یو سی 8 کے چیئرمین رمضان عباسی کے علاقے میں بنیادی سہولیات کا فقدان، شہریوں کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ نیو پنڈ بھوسہ لائن، یو سی 8 کے چیئرمین رمضان عباسی کے علاقے کے مکینوں نے بنیادی شہری سہولیات کی عدم دستیابی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ، کمشنر سکھر، ڈپٹی کمشنر سکھر، محکمہ بلدیات اور دیگر متعلقہ اداروں سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے اہلِ علاقہ کے مطابق رمضان عباسی کی یو سی 8 میں چند روز قبل اسٹریٹ لائٹس کی ڈی پی سی () تو نصب کی گئی، تاہم نہ پول نصب کیے گئے اور نہ ہی تاحال ان میں بجلی کی فراہمی شروع کی گئی، جس کے باعث رات کے وقت گلیاں تاریکی میں ڈوبی رہتی ہیں اور شہریوں کو آمدورفت کے دوران مشکلات اور تحفظ کے خدشات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ پولیس لائن عیدگاہ گراؤنڈ کو پارک کی شکل تو دی گئی، مگر وہاں نہ گھاس لگائی گئی، نہ درخت اور پودے لگائے گئے، جبکہ صرف چند بینچ رکھ کر منصوبہ ادھورا چھوڑ دیا گیا ہے۔ عوام کے مطابق اگر پارک کو مکمل سہولیات کے ساتھ فعال کیا جائے تو یہ بچوں، نوجوانوں اور بزرگوں کے لیے بہترین تفریحی مقام ثابت ہو سکتا ہے۔مکینوں نے مزید بتایا کہ پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لیے پانی کی ٹینکی تعمیر کر دی گئی، مگر نہ پانی کی سپلائی شروع کی گئی اور نہ ہی عوام کے استعمال کے لیے پانی کے نل نصب کیے گئے، جس کے باعث شہری صاف پانی جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہیںاہلِ علاقہ نے یہ بھی شکایت کی کہ رمضان عباسی کی یو سی 8 کی متعدد گلیاں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، جن کی وجہ سے آمدورفت میں شدید دشواری پیش آتی ہے، جبکہ صفائی ستھرائی کا نظام بھی انتہائی ناقص ہے۔ کئی علاقوں میں کچرا بروقت نہیں اٹھایا جاتا، جس سے تعفن پھیلنے اور بیماریوں کے خدشات میں اضافہ ہو رہا ہےشہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ رمضان عباسی کی یو سی 8 میں اسٹریٹ لائٹس فوری فعال کی جائیں، پارک میں گھاس، درخت اور دیگر سہولیات فراہم کی جائیں، پانی کی ٹینکی کو فعال کرکے صاف پینے کے پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے، پانی کے نل نصب کیے جائیں، ٹوٹی پھوٹی گلیوں کی تعمیر و مرمت کی جائے اور صفائی ستھرائی کے مؤثر نظام کو فوری نافذ کیا جائے۔اہلِ علاقہ نے اعلیٰ حکام سے یہ بھی اپیل کی ہے کہ رمضان عباسی کی یو سی 8 کے لیے حکومت کی جانب سے جاری ترقیاتی فنڈز کے استعمال کا شفاف آڈٹ اور غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے تاکہ عوام کو اعتماد حاصل ہو کہ سرکاری وسائل ان کی فلاح و بہبود اور بنیادی سہولیات کی فراہمی پر مؤثر انداز میں خرچ کیے جا رہے ہیں۔ اگر کسی قسم کی بے ضابطگی سامنے آئے تو قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔

