تحریر حاجی فضل محمود انجم
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
جب وطن کی خاطر کوئی سپاہی اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتا ہے تو پوری قوم اسے شہید کہہ کر اسے خراج عقیدت اور سلام پیش کرتی ہے۔ اس کے درجات کی بلندی اور جنت میں بلند مقام کی دعائیں کی جاتی ہیں، بوقت شہادت اسکے اہلِ خانہ اور عزیز و اقارب کو خراجِ تحسین پیش کیا جاتا ہے اور اس کی وطن کی خاطر دی گئی اس قربانی پر حکومت کی طرف سے اعزازات، مالی امداد یا مراعات جاری رکھنے کے اعلانات کئے جاتے ہیں۔ مگر ایک سوال ایسا بھی ہے جو ہم میں سے ہر ایک درد مند دل کو ہمیشہ بے چین کئے رکھتا ہے، وہ یہ کہ :-
"کیا ایک شہید کی جان کی قیمت صرف اسکی تنخواہ یا مالی پیکج ہو سکتی ہے؟
چاہے وہ پیکج مقدار اور حجم میں جتنا بھی بڑا ہو۔” یقینا” نہیں کیونکہ وطن کی عزت و آبرو اور اسکی سالمیت کی خاطر جان دینے والا شہید نہ صرف اپنے بچوں کا مستقبل اپنے وطن کی خاطر قربان کر رہا ہوتا ہے بلکہ وہ اپنی ذاتی خواہشات، اپنے والدین کے سہانے خواب اور اپنی شریکِ حیات کی زندگی کی خوشیوں کو بھی قوم و وطن پر قربان کر رہا ہوتا ہے۔ اسکی وطن کی خاطر دی گئی اس قربانی کا صلہ نہ تو کسی بینک کے ہینڈسم سے چیک سے ادا ہو سکتا ہے اور نہ ہی کسی بڑی سے بڑی تنخواہ سے کیونکہ تنخواہ تو ایک ملازم کی خدمات کا معاوضہ ہوتا ہے جبکہ شہادت ایک ایسا انمول رتبہ ہے جو کسی بھی پے اسکیل، الاؤنس یا مراعات سے نہیں تولا جا سکتا۔ وطن کی عزت و آبرو کی خاطر جان قربان کرنے والا شخص صرف اپنا فرض ادا نہیں کرتا بلکہ اپنے اس فرض کی ادائیگی میں اپنی قیمتی جان،اپنی زندگی، اپنے خاندان اور اپنے مستقبل کو بھی ملک و قوم کی عزت و آن اور آبرو پر نچھاور کر دیتا ہے۔شہداء کی قربانیوں کو انکی تنخواہ سے جوڑنا گویا شہادت کے رتبے کو کم کرنے کی ایک بھونڈی کوشش تو قرار دیا جا سکتا ہے مگر شہادت کی عظمت کو کسی بھی صورت اور کسی بھی مالی طرح کی مالی منفعت کے بدلے میں ہرگز کم نہیں کیا جا سکتا۔یہاں تو ایک عام انسان کی جان بہت قیمتی اور انمول ہوتی ہے چہ جائیکہ ایک شہید کی جان کا ذکر کیا جاۓ،
بقول علامہ اقبال:-
دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو
عجب چیز۔۔۔۔۔۔ ہے۔۔۔۔۔۔۔ لذت آشنائی
شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن
نہ مال غنیمت۔۔۔۔۔۔۔۔نہ کشور کشائی
آپ کیا سمجھتے ہیں کہ شہادت صرف مر جانے کا نام ہے۔نہیں نہیں! یقینا” نہیں۔ شہادت صرف موت کا نام نہیں بلکہ ایک ایسی زندگی کا نام ہے جو عزت و عظمت، ایثار و قربانی اور ملک سے وفاداری کی ایک اعلیٰ و ارفع مثال بن جائے۔ شہید اپنے خون سے قوموں کی آزادی و خود مختاری کی تاریخ لکھتا ہے، امن و آشتی اور بقاء کیلئے بنیادیں مضبوط کرتا ہے۔ اسی لئے شہداء کو قوموں کا سرمایہ اور تاریخ کا روشن باب کہا جاتا ہے۔
آیئے۔۔۔۔۔ یہ عہد کریں کہ شہید کے خون کو کبھی بھی اسکی تنخواہ یا معاوضے کے ترازو میں نہیں تولیں گے کیونکہ شہید کی اصل قیمت قوم کی آزادی عزت اور بقا ہے اور یہ قیمت کبھی بھی ادا نہیں کی جا سکتی کیونکہ وطن سے محبت کرنا کوئی عام بات نہیں ہے۔
یہ شہادت گاہ الفت میں قدم رکھنا ہے
لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا


