تحریر کلیم اللہ چانڈیو
ہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

پاکستان کے مختلف شہروں، خصوصاً کراچی، سرگودھا اور دیگر علاقوں میں آئے روز معصوم بچوں کے ساتھ زیادتی، اغوا، قتل، موبائل اور موٹر سائیکل چوری جیسے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ یہ خبریں ہر دردِ دل رکھنے والے انسان کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہیں۔
آخر یہ درندے کون ہیں جو تین، چار اور پانچ سال کے معصوم بچوں کو بھی نہیں بخشتے؟ ایسے ننھے بچوں کا کیا قصور ہوتا ہے؟ کبھی کوئی بچہ دکان پر جاتا ہے، کبھی گلی میں کھیل رہا ہوتا ہے، اور چند لمحوں بعد اس کے ساتھ ظلم کی خبر سامنے آ جاتی ہے۔
عوام کا سوال ہے کہ آخر ان جرائم پر مکمل قابو کیوں نہیں پایا جا رہا؟ اگر قانون پر سختی سے عمل ہو، تیز رفتار تحقیقات ہوں اور مجرموں کو بروقت سزا ملے تو ایسے جرائم میں کمی آ سکتی ہے۔ لوگ یہ بھی سوال کرتے ہیں کہ ٹریفک چالان اور دیگر معاملات میں تو فوری کارروائی ہو جاتی ہے، مگر بچوں کے تحفظ، موبائل اور موٹر سائیکل چوری جیسے سنگین جرائم کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کیوں نظر نہیں آتے؟
ہر روز کسی نہ کسی خاندان کی خوشیاں اجڑ رہی ہیں۔ والدین خوفزدہ ہیں

