8 ای میلز میں "ٹارچر ویڈیو” اور نابالغ لڑکیوں کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کا ذکر
واشنگٹن : نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کی رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ انصاف (DOJ) کو ایک بڑی قانونی شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ایک وفاقی جج نے محکمہ انصاف کو حکم دیا ہے کہ وہ جیفری ایپسٹین کیس سے متعلق مزید غیر خفیہ شدہ (unredacted) دستاویزات جاری کرے یا پھر 2 جولائی تک یہ وضاحت پیش کرے کہ وہ ان دستاویزات کو کیوں چھپا رہا ہے۔
یہ فیصلہ میڈیا لیگل تجزیہ کار کیٹی فانگ کی جانب سے دائر کردہ مقدمے کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ فانگ کا الزام ہے کہ محکمہ انصاف نے گزشتہ سال منظور کیے گئے "ایپسٹین ایکٹ” کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کچھ اہم مواد کو یا تو چھپایا ہے یا پھر ان میں ناموں کو پوشیدہ (redact) رکھا ہے۔ اگرچہ محکمہ انصاف اس قانون کے تحت اب تک 35 لاکھ صفحات جاری کر چکا ہے، تاہم درخواست گزار کا اصرار ہے کہ اب بھی بہت کچھ منظرِ عام پر لایا جانا باقی ہے۔
امریکی ڈسٹرکٹ جج ایمیٹ سلیوان نے اپنے حکم میں نشاندہی کی کہ یہ معاملہ صرف کاغذات کا نہیں بلکہ سنگین نوعیت کے الزامات کا ہے۔ مقدمے میں کیٹی فانگ نے درج ذیل اہم نکات اٹھائے ہیں:
محکمہ انصاف نے کم از کم آٹھ ایسی ای میلز میں ناموں کو پوشیدہ رکھا ہے جن میں جیفری ایپسٹین کی جانب سے "ٹارچر ویڈیو” اور نابالغ لڑکیوں کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کا ذکر موجود ہے۔
مقدمے میں الزام لگایا گیا ہے کہ ایک مسودہ فردِ جرم (draft indictment) میں ان افراد کے نام بھی مٹا دیے گئے جنہیں "شریک سازشی” (co-conspirators) قرار دیا گیا تھا۔
فانگ کا دعویٰ ہے کہ محکمہ انصاف نے 36 ایسی دستاویزات روک رکھی ہیں جن میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا براہِ راست ذکر ہے۔ ان دستاویزات میں ایک متاثرہ خاتون کے ایف بی آئی انٹرویو کے نوٹس بھی شامل ہیں، جس نے الزام لگایا تھا کہ 1980 کی دہائی میں جب وہ 13 سال کی تھیں، تب ایپسٹین نے انہیں ٹرمپ سے ملوایا تھا، جنہوں نے مبینہ طور پر ان پر حملہ کیا۔
محکمہ انصاف کا مؤقف ہے کہ فانگ کو یہ مقدمہ دائر کرنے کے بجائے "فریڈم آف انفارمیشن ایکٹ” (FOIA) کے تحت درخواست دینی چاہیے تھی۔ تاہم، فانگ کے وکلاء کا کہنا ہے کہ اس سے قبل بھی ان کی اس کیس سے متعلق FOIA درخواستیں مسترد کی جا چکی ہیں۔
واضح رہے کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایپسٹین سے متعلق تمام الزامات کی تردید کر چکے ہیں اور ان پر اس کیس میں کبھی بھی کوئی مجرمانہ فردِ جرم عائد نہیں کی گئی۔
عدالت نے محکمہ انصاف کو 2 جولائی تک کی ڈیڈ لائن دی ہے۔ یہ فیصلہ امریکی تاریخ کے ایک انتہائی متنازع اور تاریک باب کو کھولنے کی جانب ایک بڑا قدم سمجھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس حکم کے بعد کئی اہم سیاسی اور سماجی شخصیات کے نام دوبارہ خبروں کی زینت بن سکتے ہیں۔

