تہران :ایران کی مرکزی فوجی کمانڈ نے خبردار کیا ہے کہ ایران بعض ہمسایہ ممالک کی فضائی حدود میں اسرائیلی فوجی طیاروں کی نقل و حرکت کو اپنی قومی سلامتی کے لیے خطرہ تصور کرتا ہے۔ ایرانی فوج نے واضح کیا ہے کہ کوئی بھی خطرہ محسوس ہونے پر ایران سخت جواب دے گا۔
ایران کی خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹر نے جمعے کو جاری بیان میں اسرائیلی فوجی طیاروں کی بعض ہمسایہ ممالک کی فضائی حدود سے ایران کی جانب پروازوں پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔
خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹر کی جاب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پڑوسی ممالک کی فضائی حدود میں اسرائیلی فوجی طیاروں کی موجودگی اور نقل و حرکت خطرناک اقدام ہے۔
آج نیوز کے مطابق بیان میں کہا گیا کہ اگر امریکا اسرائیل کو قابو میں رکھنے یا اس کے اقدامات کو روکنے میں ناکام رہتا ہے تو ایران اپنے خلاف کسی بھی قسم کے خطرے کو برداشت نہیں کرے گا اور بھرپور جواب دے گا۔
واضح رہے کہ اس بیان میں کسی ملک کا باقاعدہ نام نہیں لیا گیا ہے تاہم ایران کے سرکاری میڈیا پریس ٹی وی نے ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے عراقی حکومت اور کردستان کی نیم خودمختار حکومت کو باضابطہ طور پر ایک سخت پیغام بھیجا ہے، جس میں شمالی عراق میں موجود ایران مخالف مسلح گروپوں کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ پیغام تہران میں عراق کے سفیر یاسر الحجاج کے ذریعے پہنچایا گیا ہے، جس میں بغداد اور اربیل کے سامنے دو تجاویز رکھی گئی ہیں۔ پہلی یہ کہ ان گروپوں کے رہنماؤں اور ارکان کو گرفتار کر کے قانونی کارروائی کے لیے ایران کے حوالے کیا جائے یا پھر انہیں ایک مقررہ مدت کے اندر کسی تیسرے ملک منتقل کرنے کے انتظامات کیے جائیں۔
رپورٹ کے مطابق ایران عراق کے کردستان ریجن میں ان گروپوں کی موجودگی اور سرگرمیوں کو اپنی قومی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ سمجھتا ہے، اسی لیے اس نے عراق کی مرکزی حکومت اور کرد حکام تک اپنے خدشات پہنچا دیے ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران حالیہ مہینوں میں شمالی عراق میں متعدد حملے کر چکا ہے، جن میں 8 جون کو سلیمانیہ میں ایک ایسے گروپ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے کارروائی کی گئی تھی جسے تہران دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے۔ اس سے قبل بھی ایران خبردار کر چکا ہے کہ اگر علیحدگی پسند گروپ اس علاقے کو ایران میں داخلے کے لیے استعمال کرتے رہے تو عراق کردستان ریجن میں موجود ان گروپوں کی پناہ گاہوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
ہمسایہ ممالک میں اسرائیلی طیاروں کی مشکوک پروازیں، خطرہ ہوا تو ایران کا جواب سخت ہوگا، پاسداران انقلاب

