زمین کے اندر موجود ٹیکٹونک پلیٹیں جب ایک دوسرے سے ٹکراتی یا کھسکتی ہیں تو زلزلہ آتا ہے۔ کئی بار یہ کچھ سیکنڈ کا ہوتا ہے، لیکن اس کا اثر اس قدر خطرناک ہوتا ہے کہ پوا شہر تباہ ہو جاتا ہے۔ جب جب ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 7 سے لے کر 9.5 تک ہوتی ہے تو بڑے پیمانے پر تباہی ہوتی ہے۔ ریکٹر اسکیل پر ہر ایک پوائنٹ کے اضافے کا مطلب ہے 10 گنا زیادہ لرزش اور تقریباً 32 گنا زیادہ توانائی کا اخراج۔ تاریخ میں ایسے کئی زلزلے آئے ہیں، جنہوں لاکھوں لوگوں کی زندگی بدل دی۔ آئیے جانتے ہیں دنیا کے 10 سب سے بڑے زلزلوں کے بارے میں۔
- والڈیویا، چلی (22 مئی 1960) 9.5 شدت: یہ اب تک کا سب سے طاقتور زلزلہ مانا جاتا ہے۔ اس کی شدت 9.5 تھی۔ زلزلے کے بعد 25 میٹر تک بلند سنامی آئی، جس کی لہریں چلی سے ہزاروں کلومیٹر دور ہوائی، جاپان اور فلپائن تک پہنچ گئیں۔ اس آفت میں 1655 سے لے کر 6000 تک لوگوں کی موت ہوئی، تقریباً 20 لاکھ لوگ بے گھر ہو گئے اور اس وقت کے حساب سے تقریباً 550 ملین ڈالر کا نقصان ہوا۔
- پرنس ولیم ساؤنڈ، الاسکا (27 مارچ 1964) 9.2 شدت: الاسکا میں آنے والا یہ زلزلہ ’گریٹ الاسکا ارتھ کوئیک‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس کے بعد بڑے پیمانے پر لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات پیش آئے اور سنامی بھی آئی۔ جس علاقے میں یہ زلزلہ آیا وہاں آبادی کم تھی، اس لیے 131 افراد ہلاک ہوئے۔ تاہم اینکریج شہر کی سڑکوں، عمارتوں، بندرگاہوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا۔
- سماٹرا، انڈونیشیا (26 دسمبر 2004) 9.1 شدت: یہ جدید تاریخ کی سب سے بڑی قدرتی آفتوں میں سے ایک تھی۔ سمندر کے نیچے آنے والے اس زلزلے کے بعد بحر ہند میں شدید ترین سنامی آئی۔ اس کی لہروں نے ہندوستان، سری لنکا، انڈونیشیا اور تھائی لینڈ سمیت 14 ممالک میں بھاری تباہی مچائی۔ اس آفت میں تقریباً 227898 لوگوں کی موت ہوئی۔ لاکھوں لوگ بے گھر ہو گئے اور کئی ممالک کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا۔
- توہوکو، جاپان (11 مارچ 2011) 9 شدت: اس زلزلے کے بعد 40 میٹر تک اونچی سنامی آئی، جس نے جاپان کے کئی ساحلی شہروں کو تباہ کر دیا۔ اسی وجہ سے فوکوشیما نیوکلیئر پاور پلانٹ میں ریڈیو ایکٹو مواد کا اخراج بھی ہوا۔ اس آفت میں 22 ہزار سے زیادہ لوگ مارے گئے یا لاپتہ ہو گئے۔ ورلڈ بینک کے مطابق اس سے تقریباً 235 بلین ڈالر کا نقصان ہوا، جو کسی بھی قدرتی آفت سے ہونے والا سب سے بڑا معاشی نقصان مانا جاتا ہے۔
- کامچٹکا، روس (4 نومبر 1952) 9 شدت: روس کے دور دراز مشرقی علاقے میں آنے والے اس زلزلے کے بعد 13 میٹر اونچی سنامی اٹھی۔ سنامی نے سیویرو-کوریلسک شہر کو تقریباً پوری طرح تباہ کر دیا۔ اس حادثے میں تقریباً 2336 لوگوں کی جان گئی۔ یہ بیسویں صدی کے سب سے بڑے سمندری زلزلوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
- ماؤلے، چلی (27 فروری 2010) 8.8 شدت: اس زلزلے کے جھٹکے چلی کی تقریباً 80 فیصد آبادی نے محسوس کیے۔ اس کے بعد آنے والی سنامی نے ساحلی علاقوں کو اور زیادہ نقصان پہنچایا۔ تقریباً 525 لوگوں کی موت ہوئی اور تقریباً 30 بلین ڈالر کا معاشی نقصان ہوا۔ ہزاروں گھر، سڑکیں اور پل تباہ ہو گئے۔
- ایکواڈور-کولمبیا ساحل (31 جنوری 1906) 8.8 شدت: یہ زلزلہ بحر الکاہل کے ساحل پر آیا تھا۔ اس کے بعد آنے والی سنامی نے ایکواڈور اور کولمبیا کے ساحلی علاقوں کو بھاری نقصان پہنچایا۔ تاریخی ریکارڈز کے مطابق اس آفت میں 1000 سے 1500 لوگوں کی موت ہوئی۔ اس وقت جدید وارننگ سسٹم نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کو بچنے کا موقع نہیں ملا۔
- ریٹ آئی لینڈز، الاسکا (4 فروری 1965) 8.7 شدت: یہ زلزلہ سمندر کے قریب ایک دور دراز اور تقریباً غیر آباد علاقے میں آیا تھا۔ اس کے بعد قریب 10 میٹر اونچی سنامی اٹھی، لیکن وہاں آبادی بہت کم ہونے کی وجہ سے کسی کی جان نہیں گئی۔ کچھ عمارتوں اور بندرگاہوں کو معمولی نقصان پہنچا۔ یہ اس بات کی مثال ہے کہ شدید زلزلہ آنے کے باوجود اگر آبادی کم ہو تو جانی نقصان سے بچا جا سکتا ہے۔
- آسام-تبت زلزلہ (15 اگست 1950) 8.6 شدت: یہ ہندوستان کی تاریخ کے طاقتور ترین زلزلوں میں سے ایک تھا۔ اس کا مرکز تبت کی سرحد کے قریب تھا، لیکن سب سے زیادہ اثر آسام اور شمال مشرقی ہندوستان پر پڑا۔ اس دوران شدید لینڈ سلائیڈنگ ہوئی، کئی ندیاں ملبے سے بھر گئیں اور بعد میں سیلاب آ گیا۔ اس آفت میں تقریباً 1500 سے 4800 لوگوں کی موت ہوئی۔ کئی گاؤں پوری طرح تباہ ہو گئے اور ہزاروں لوگوں کو اپنا گھر چھوڑنا پڑا۔
- شمالی سماٹرا، انڈونیشیا (11 اپریل 2012) 8.6 شدت: یہ سمندر کے اندر آنے والا ایک بہت طاقتور زلزلہ تھا۔ اس کی شدت 8.6 تھی، لیکن یہ ایک مختلف قسم کا زلزلہ تھا، اس لیے کوئی بڑی سنامی نہیں آئی۔ اس کے باوجود بحر ہند کے کئی ممالک میں سنامی کا الرٹ جاری کیا گیا تھا۔ اس حادثے میں صرف 10 لوگوں کی موت ہوئی اور بڑا نقصان ٹل گیا۔

