واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ طے پانے والے حالیہ معاہدے کے حوالے سے جاری قیاس آرائیوں پر خاموشی توڑ دی ہے۔ صحافیوں کی جانب سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہ آیا اس معاہدے کے تحت ایران کو معاشی پابندیوں سے کوئی ریلیف ملے گا، صدر ٹرمپ نے واضح طور پر کہا کہ ”نہیں، ایسا بالکل نہیں ہے“۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ یہ معاملہ دراصل رویے سے جڑا ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ”اگر ایران وہی کچھ کرے گا جو اسے کرنا چاہیے، تو اس کے مثبت اثرات خود بخود سامنے آنا شروع ہو جائیں گے“۔
ایران کے علاوہ صدر ٹرمپ نے لبنان اور حزب اللہ کے درمیان جاری کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے اسے ایک ”پیچیدہ تنازع“ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اس دیرینہ مسئلے کا پائیدار حل تلاش کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ ٹرمپ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لبنان کی موجودہ صورتحال ایک طویل عرصے سے جاری ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ تنازع کبھی ختم ہی نہیں ہوگا، تاہم ان کا عزم ہے کہ وہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ آیا اسے مکمل طور پر ختم کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’اگر ایران کے ساتھ تعلقات میں بہتری نہ آئی تو صورتحال دوبارہ اسی مقام پر جا سکتی ہے جہاں سے حالیہ کشیدگی کا آغاز ہوا تھا۔‘
گزشتہ ہفتے ایران پر امریکی حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ’مجھے افسوس تھا کہ ہمیں دو راتوں تک حملے کرنے پڑے۔انھوں نے امید ظاہر کی کہ امریکا اور ایران کے درمیان مستقبل میں اچھے تعلقات قائم ہوں گے، مگر انھوں نے ساتھ ہی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو حالات دوبارہ پہلے جیسے ہو سکتے ہیں۔ٹرمپ نے کہا کہ ’اگر تعلقات بہتر نہ ہوئے تو ہم دوبارہ وہیں واپس جا سکتے ہیں جہاں سے ہم نے آغاز کیا تھا، لیکن مجھے نہیں لگتا کہ ایسا کرنے کی ضرورت پیش آئے گی۔‘
جنیوا میں ہونے والی تقریب میں شرکت سے متعلق سوال کے جواب میں امریکی صدر نے کہا کہ وہ خود تقریب میں شرکت نہیں کریں گے۔انھوں نے بتایا کہ امریکہ کی جانب سے اس معاہدے پر باضابطہ دستخط نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے۔
ایران سے تعلقات بہتر نہ ہوئے تو حالات دوبارہ پہلے جیسے، معاہدے میں پابندیوں کا خاتمہ شامل نہیں، صدر ڈونلڈ ٹرمپ

