واشنگٹن: ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے تارکینِ وطن کی ملک بدری کے حوالے سے ایک انتہائی غیر معمولی اور متنازعہ منصوبہ سامنے آیا ہے، جس کے تحت امریکا میں پناہ کے متلاشی متعدد افراد، بشمول ایرانی شہریوں کو اپنے آبائی وطن بھیجنے کے بجائے ’سینٹرل افریقہ ریپبلک‘ (وسطی افریقی جمہوریہ) بھیجا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، اس منصوبہ بندی کے تحت ڈی پورٹ کیے جانے والوں میں ایسی ایرانی خواتین بھی شامل ہیں جنہیں واپسی کی صورت میں ایران میں سخت تشدد اور انتقامی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان خواتین کی وکیل، ایملی ٹراسٹل کے مطابق، ان میں سے ایک خاتون نے عیسائیت قبول کر رکھی ہے جبکہ دوسری جمہوریت نواز سرگرم کارکن ہے؛ دونوں کو نومبر 2024 میں امریکا میں داخلے کے وقت حراست میں لیا گیا تھا اور انہوں نے یہاں سیاسی پناہ کی درخواست دی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا اور وسطی افریقی جمہوریہ کے درمیان ایک خفیہ معاہدہ طے پایا ہے جس کے تحت یہ افریقی ملک امریکا سے ڈی پورٹ کیے جانے والے تارکینِ وطن کو قبول کرنے پر رضامند ہوا ہے۔ واضح رہے کہ سینٹرل افریقہ ریپبلک خود طویل عرصے سے شدید سیاسی عدم استحکام، پُرتشدد تنازعات اور معاشی بدحالی کا شکار ہے۔
اس معاملے سے واقف ایک عہدیدار کے مطابق، اس نئے معاہدے کے تحت پہلی پرواز کے ذریعے تقریباً 20 افراد کو وسطی افریقہ بھیجا جا رہا ہے۔ ان افراد میں صرف ایرانی ہی نہیں، بلکہ شامی اور افغان شہری بھی شامل ہیں۔ وکلاء کا کہنا ہے کہ ان متاثرین کو فوری طور پر ملک بدر کرنے کے لیے پروازوں کا سلسلہ شروع کیا جا رہا ہے۔
اس معاملے پر امریکی محکمۂ خارجہ اور سینٹرل افریقہ ریپبلک کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور قانونی ماہرین کی جانب سے اس پیش رفت پر شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے، کیونکہ ایک ایسے ملک میں تارکینِ وطن کو بھیجنا جو خود شدید بحران کا شکار ہے، بین الاقوامی قوانین کے منافی قرار دیا جا سکتا ہے۔
امریکا میں رہائش پذیر مسلمان تارکین وطن کو وسطی افریقا منتقل کرنیکا فیصلہ

