گوانگسی، چین: طبی تحقیق کی تاریخ میں ایک اور سنگ میل عبور کر لیا گیا ہے۔ چینی سائنسدانوں نے کامیابی کے ساتھ ایک جینیاتی طور پر تبدیل شدہ خنزیر کے جگر اور گردے ایک برین ڈیڈ انسانی مریض میں منتقل کر کے طبی دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ یہ انسانی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا ’ملٹی آرگن زینو ٹرانسپلانٹ‘ (جانور سے انسان میں اعضاء کی پیوند کاری) ہے۔
ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق، یہ پیچیدہ سرجری گوانگسی میڈیکل یونیورسٹی کے سیکنڈ الحاق شدہ ہسپتال کے ماہرین کی ٹیم نے ایک 53 سالہ برین ڈیڈ مریض پر کی۔ اس عمل میں مریض کے اپنے ناکارہ اعضاء نکال کر ان کی جگہ خنزیر کے جینیاتی طور پر تبدیل شدہ اعضاء لگائے گئے۔ اس طریقہ کار کو طبی اصطلاح میں ‘آرتھوٹوپک ٹرانسپلانٹیشن’ کہا جاتا ہے، جس میں اعضاء کو ان کے قدرتی مقام پر نصب کیا جاتا ہے۔
تحقیقی ٹیم کے مطابق، پیوند کیے گئے اعضاء نے آپریشن کے چند گھنٹوں کے اندر ہی اپنا کام شروع کر دیا تھا۔ یہ اعضاء تقریباً پانچ دن تک انسانی جسم میں فعال رہے، جس کے بعد مریض کے اہل خانہ کی رضامندی سے اس مطالعے کو مکمل کر لیا گیا۔ اس اہم تحقیق کے نتائج طبی جریدے ‘میڈ’ (Med) میں 29 مئی کو شائع کیے گئے ہیں۔
جینیاتی تبدیلی کیوں ضروری تھی؟
جانوروں کے اعضاء کو انسانی جسم کے موافق بنانے کے لیے سائنسدانوں نے جدید ترین جینیاتی انجینئرنگ کا استعمال کیا۔ ڈونر خنزیر کے وہ تین جینز ہٹا دیے گئے جو انسانی مدافعتی نظام کے ردِ عمل (امیون ریجیکشن) کا باعث بنتے ہیں، جبکہ ان کی جگہ تین انسانی جینز لگائے گئے تاکہ خون کے جمنے کو روکا جا سکے اور اعضاء کے مسترد ہونے کے خطرے کو کم کیا جا سکے۔
خنزیر ہی کیوں؟
طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ خنزیر کے اعضاء انسانی اعضاء کے سائز، وزن اور جسمانی افعال سے غیر معمولی مماثلت رکھتے ہیں۔ خاص طور پر ان کے گردے اور جگر کی ساخت انسانی اعضاء سے بہت قریب ہے۔
زینو ٹرانسپلانٹیشن کو اعضاء کی عالمی قلت کا ایک پائیدار حل قرار دیا جا رہا ہے۔ ہر سال ہزاروں مریض بروقت انسانی اعضاء نہ ملنے کے باعث اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ اگرچہ ملٹی آرگن ٹرانسپلانٹ طبی سائنس کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے کیونکہ اس میں پیچیدہ جسمانی تعاملات اور مدافعت کے ردِ عمل کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے، تاہم چین کی یہ کامیابی مستقبل میں انسانی جانیں بچانے کے لیے ایک روشن راستہ ثابت ہو سکتی ہے۔

