ڈھاکہ: بنگلہ دیش نے منگل (9 جون) کو ڈھاکہ کے شیر بنگلہ نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلے گئے پہلے ون ڈے میچ میں آسٹریلیا کو ڈک ورتھ لوئس اسٹرن (ڈی ایل ایس) طریقہ کار کے تحت 86 رنز سے شکست دے کر حیران کردیا۔ 285 کے ہدف کے تعاقب میں آسٹریلیا کا اسکور 42.2 اوورز میں 9 وکٹوں پر 191 رنز تھا جب بارش اور آسمانی بجلی گرنے سے میچ روکنا پڑا۔ میچ دوبارہ شروع نہیں ہو سکا لیکن اس وقت بنگلہ دیش ڈی ایل ایس طریقہ کار کے تحت آسٹریلیا سے 86 رنز سے آگے تھا۔ جس کی وجہ سے انہیں میچ کا فاتح قرار دیا گیا۔
بنگلہ دیش نے 21 سال بعد آسٹریلیا کو حیران کر دیا
اس فتح کے ساتھ بنگلہ دیش نے تین میچوں کی سیریز میں 1-0 کی برتری حاصل کر لی ہے۔ آسٹریلیا کے خلاف بنگلہ دیش کی یہ واحد دوسری ون ڈے جیت ہے۔ اس سے قبل، انہوں نے 21 سال قبل 2005 میں کارڈف میں چھ بار کے عالمی چیمپئن آسٹریلیا کو 5 وکٹوں سے شکست دی تھی، جو آسٹریلیا کے خلاف بنگلہ دیش کی ون ڈے تاریخ کا سب سے اہم لمحہ تھا۔ دونوں ٹیموں کے درمیان مجموعی طور پر 23 ون ڈے میچ کھیلے جا چکے ہیں جن میں آسٹریلیا نے 20 اور بنگلہ دیش نے 2 میں کامیابی حاصل کی جبکہ ایک میچ ڈرا پر ختم ہوا۔
بنگلہ دیش کی تاریخی فتح میں دو کھلاڑیوں نے اہم کردار ادا کیا۔ چار سال بعد ٹیم میں واپسی کرتے ہوئے مصدق حسین نے اپنے ون ڈے کیریئر کا بہترین اسکور (86 ناٹ آؤٹ) بنایا اور پھر گیند کے ساتھ 10 اوورز میں 37 رنز دے کر 2 وکٹیں حاصل کیں۔ جس پر انہیں پلیئر آف دی میچ کا ایوارڈ دیا گیا۔ اس کے علاوہ فاسٹ بولر ناہید رانا نے 41 رنز کے عوض 4 وکٹیں لے کر آسٹریلوی بیٹنگ آرڈر کو تہس نہس کردیا۔
میچ کے حوالے سے آسٹریلیا نے ٹاس جیت کر بنگلہ دیش کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی۔ میزبان ٹیم نے مصدق حسین (86)، نظم الحسن شانتو (67) اور تنزید حسن تمیم (54) کی شاندار نصف سنچریوں کی بدولت 50 اوورز میں 8 وکٹوں پر 284 رنز بنائے۔ آسٹریلیا کی جانب سے نیتھن ایلس نے تین جبکہ لیام سکاٹ اور میٹ رینشا نے دو دو وکٹیں حاصل کیں۔
جواب میں مہمان ٹیم بارش کی آمد سے قبل 42.2 اوورز میں 9 وکٹوں پر 191 رنز ہی بنا سکی۔ کیمرون گرین 52 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے جبکہ کوپر کونولی نے 35 اور ایلکس کیری نے 42 رنز بنائے۔دیگر بلے باز زیادہ دیر تک کریز پر ٹھہرنے میں ناکام رہے۔ بنگلہ دیش کی جانب سے ناہید رانا نے چار جبکہ مستفیض حسین اور مصدق حسین نے دو دو وکٹیں حاصل کیں۔
آسٹریلیا کی خراب فیلڈنگ ان کی شکست کا ایک بڑا سبب تھی۔ انہوں نے میچ میں مجموعی طور پر چار کیچ گرائے جن میں مصدق حسین کے تین کیچ بھی شامل تھے۔ سیریز کا دوسرا میچ 11 جون کو کھیلا جائے گا۔

