تہران/واشنگٹن (نیوز ڈیسک)
امریکا کا آبنائے ہرمز کے اوپر اپنے گرائے گئے اپاچی ہیلی کاپٹر کا انتقام لینے کے لئے ایران پر 20 حملے کئے ہیں جبکہ امریکی حملوں کے جواب میں ایرانی انقلابی گارڈز (IRGC) نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اردن، کویت اور بحرین میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنا دیا ہے۔ یہ حالیہ مہینوں میں دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست تصادم کا سب سے خطرناک مرحلہ ہے۔
تُعلن رئاسة الأركان العامة للجيش أن منظومات الدفاع الجوي الكويتيه تتصدى حالياً لأهداف جوية معادية وفق الإجراءات العملياتية المعتمدة.
وتهيب بالجميع الالتزام بتعليمات وإرشادات الأمن والسلامة الصادرة عن الجهات المختصة، واستقاء المعلومات من المصادر الرسمية المعتمدة.#الجيش_الكويتي pic.twitter.com/tVYM18ciJS
— KUWAIT ARMY – الجيش الكويتي (@KuwaitArmyGHQ) June 10, 2026
ایرانی انقلابی گارڈز نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اردن کے ‘الازرق’ ایئربیس پر طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں سے حملہ کیا۔ آئی آر جی سی کے مطابق، حملے میں ایف-35 لڑاکا طیاروں کے ہینگرز اور اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کو کامیابی سے تباہ کیا گیا ہے۔ اسی دوران، بحرین میں موجود امریکی پانچویں بحری بیڑے پر بھی ڈرون حملہ کیا گیا۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے پورے خطے میں کل 21 امریکی اہداف کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ ایرانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والا ایک امریکی MQ-9 ڈرون بھی مار گرایا گیا ہے۔
U.S. Central Command (CENTCOM) forces began launching self-defense strikes against Iran at 5 p.m. ET today at the Commander in Chief’s direction, in response to yesterday’s downing of a U.S. Army Apache helicopter. The mission is a proportional response to unjustified Iranian…
— U.S. Central Command (@CENTCOM) June 9, 2026
امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے تصدیق کی ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر ایران کے فضائی دفاعی نظام، ریڈار سائٹس اور گراؤنڈ کنٹرول اسٹیشنز پر حملے کیے گئے۔ امریکی صدر نے سخت الفاظ میں انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ان اقدامات کا انتہائی طاقتور جواب دیا جائے گا۔
اردن: اردنی فوج کے مطابق 5 میزائل فضا میں ہی تباہ کر دیے گئے، تاہم ملبہ گرنے سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔
امریکی سینٹ کام: امریکی حکام کا کہنا ہے کہ زیادہ تر میزائلوں اور ڈرونز کو فضا میں ہی ناکارہ بنا دیا گیا، جس سے امریکی تنصیبات کو کسی بڑے نقصان کی فوری اطلاع نہیں ہے۔
ایران: ایران کے مطابق امریکی حملوں میں ان کے فضائی دفاعی یونٹ کے دو اہلکار ہلاک ہوئے، جبکہ کچھ انفراسٹرکچر بشمول ٹیلی کمیونیکیشن ٹاورز کو نقصان پہنچا۔
۔یہ تنازع اس وقت شروع ہوا تھا جب امریکہ نے الزام عائد کیا کہ ایران نے ایک اپاچی ہیلی کاپٹر مار گرایا ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ امریکی AH-64 اپاچی ہیلی کاپٹر کی تباہی حادثاتی تھی یا ایک دانستہ کارروائی ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’دونوں پائلٹ محفوظ ہیں اور زخمی نہیں ہوئے۔ لیکن امریکہ اس حملے کا جواب ضرورت کے تحت دے گا۔ٹرمپ نے اے بی سی نیوز سے بات کرتے ہوئے امریکی حملوں کی ذمہ داری ایران پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’انھوں نے جو کیا، یہ اس کا جواب ہے، انھوں نے جو ہمارے ہیلی کاپٹر کے ساتھ کیا اور میرا ماننا ہے کہ جواب مضبوط اور طاقتور ہونا چاہیے اور یہ ایسا ہی ہے۔امریکی ایوان نمائندگان کے سپیکر مائیک جانسن کے مطابق وہ اس وقت صدر ٹرمپ کے ساتھ ہی تھے جب ایران پر حملے کرنے کا فیصلہ لیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ ’ایسا کرنا ضروری تھا۔‘
Despite its defeats on the battlefield, the U.S. opted to test our determination.
Our Powerful Armed Forces will leave no attack or threat unanswered.
Leave our region if you want to be safe.
History of the Persian Gulf has many chapters on dire fates of intruding outsiders. pic.twitter.com/O17GGtklxA
— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) June 9, 2026
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ: "اگر آپ محفوظ رہنا چاہتے ہیں تو ہمارا علاقہ چھوڑ دیں۔” دوسری جانب واشنگٹن نے واضح کر دیا ہے کہ کسی بھی جارحیت کا "کچلنے والا اور فیصلہ کن” جواب دیا جائے گا۔ اپریل میں ہونے والی جنگ بندی مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے اور خطہ ایک بڑی جنگ کے دہانے پر کھڑا ہے

