برطانیہ سے ایک شرمناک ایک اور دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے جسے سن کر کسی کا بھی سر شرم سے جھک جائے گا۔ برطانیہ میں ایک شادی شدہ شخص اپنی ہی ماں کی محبت میں اس قدر پاگل ہو گیا کہ اس نے اپنی بیوی اور چھوٹے بچوں کو چھوڑ کر اس کے ساتھ نئی زندگی شروع کر دی۔ یہ کیس نہ صرف برطانیہ بلکہ دنیا بھر میں موضوع بحث بن گیا ہے۔
کہانی شروع ہوتی ہےکم ویسٹ سے۔ کم نے کیلیفورنیا میں تعلیم کے دوران 19 سال کی عمر میں بین فورڈ کو جنم دیا۔ ایک ہفتے بعد، وہ بچے کی دیکھ بھال کرنے سے قاصر تھی اور اسے گود لینے کے لیے چھوڑ دیا۔ اس کے بعد کم برطانیہ واپس آگئے۔ ماں بیٹے کا 30 سال سے کوئی رابطہ نہیں تھا۔ 2013 میں، بین، جو اس وقت کولوراڈو میں اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ رہ رہا تھا، نے اپنے سگے والدین کی تلاش شروع کردی ۔ وہ کامیابی کے ساتھ کم ویسٹ تک پہنچا اور اسے ایک خط لکھا۔ لیکن یہ ماں بیٹے کا دوبارہ ملاپ ایک گہرا شرمناک موڑ لینے والا تھا۔
شروع ہوئی کشش
شروع میں ماں بیٹے کا رشتہ صرف خطوط اور فون کالز تک ہی محدود تھا لیکن 2014 میں دونوں کی آمنے سامنے ملاقات ہوئی۔ اس کے بعد جو ہوا ، وہ سوچ کر بھی روح کانپ جاتی ہے۔ ماں اور بیٹے کے درمیان کشش اتنی تیزی سے بڑھی کہ وہ اخلاقیات کی تمام حدیں پار کر گئے۔ وہ جسمانی طور پر ایک دوسرے کےقریب آئے اور جنسی تعلقات میں مصروف ہو گئے۔ بین اتنا متاثر ہوا کہ اس نے اپنی بیوی اور بچوں کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ بین نے اپنی بیوی کو بتایا کہ وہ اپنی سگی ماں کے ساتھ رہنا چاہتا ہے۔ گھر والے حیران رہ گئے۔ کم اب 50 کی دہائی میں ہے، اور بین بھی بالغ ہے۔ دونوں نے اپنے تعلقات کا کھلے عام اعتراف کیا ہے۔ کم نے میڈیا کو بتایا کہ ان کے لیے یہ عام محبت نہیں تھی بلکہ ایک شدید کشش تھی جسے ماہرین ’جینیاتی جنسی کشش‘ (GSA) کہتے ہیں۔
تنازعہ بھڑک اٹھا
اس واقعے نے برطانیہ میں ایک بڑا تنازعہ کھڑا کر دیا ہے۔ برطانوی قانون کے تحت ماں اور بیٹے جیسے خونی رشتے داروں کے درمیان جسمانی تعلقات کو سنگین جرم سمجھا جاتا ہے اور اس کے نتیجے میں سخت سزا ہو سکتی ہے۔ اس کے باوجود دونوں نے اپنا رشتہ جاری رکھا۔ ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ اس طرح کی کشش گود لیے ہوئے بچوں اور ان کے حیاتیاتی والدین کے درمیان دوبارہ ملنے کے دوران پیدا ہو سکتی ہے۔ طویل علیحدگی کی وجہ سے، دونوں کے درمیان عام ماں بیٹے کا رشتہ ٹوٹ جاتا ہے، اور کشش جنسی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ تاہم معاشرہ اسے قبول کرنے کو تیار نہیں ہے۔ اس خبر نے سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا کر دیا ہے، زیادہ تر لوگوں نے اس رشتے کی مذمت کی ہے۔ ایک صارف نے لکھا کہ ’اپنی ماں کے ساتھ تعلقات رکھنا اور اپنے بیوی بچوں کو چھوڑ دینا‘ اس سے بڑا گناہ کیا ہو سکتا ہے؟ کچھ اسے ذہنی بیماری قرار دے رہے ہیں۔ بین کی سابقہ بیوی اور بچے اس سارے معاملے سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ خاندان ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گیا ہے۔ بین نے دعویٰ کیا کہ وہ اپنی ما ں کے ساتھ سےخوش ہے اور اس فیصلے پر پچھتاوا نہیں ہے۔ یہ معاملہ اخلاقیات، قانون اور انسانی نفسیات کے درمیان پیچیدگیوں کو اجاگر کرتا ہے۔

