اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (SIPRI) کی تازہ رپورٹ کے مطابق چین مسلسل اپنے جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے میں اضافہ کر رہا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنوری 2025 میں چین کے پاس 600 جوہری وارہیڈز تھے، جو جنوری 2026 تک بڑھ کر 620 ہو گئے۔ اس طرح ایک سال کے دوران چین نے اپنے ذخیرے میں 20 نئے وارہیڈز شامل کیے، یعنی اوسطاً ہر 18 دن میں ایک نیا جوہری وارہیڈ تیار کیا گیا۔
جوہری پروگرام کی جدید کاری پر زور
رپورٹ کے مطابق چین صرف اپنے جوہری ہتھیاروں کی تعداد ہی نہیں بڑھا رہا بلکہ پورے جوہری پروگرام کو جدید بنانے پر بھی توجہ دے رہا ہے۔ SIPRI کا اندازہ ہے کہ آئندہ دہائی میں بھی چین کا جوہری ذخیرہ مسلسل بڑھتا رہے گا۔ اگرچہ چین کا مؤقف ہے کہ اس کی جوہری پالیسی مکمل طور پر دفاعی نوعیت کی ہے اور وہ ’’نو فرسٹ یوز‘‘ یعنی پہلے جوہری حملہ نہ کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
ICBM لانچرز میں امریکہ اور روس سے آگے
رپورٹ کے مطابق جنوری 2026 تک چین کے پاس 775 زمینی میزائل سائلوز موجود تھے، جو طویل فاصلے تک مار کرنے والی میزائلوں کے لانچنگ مراکز ہیں۔ SIPRI کا کہنا ہے کہ بین البراعظمی بیلسٹک میزائل (ICBM) لانچرز کی تعداد کے لحاظ سے چین اب امریکہ اور روس سے بھی آگے نکل چکا ہے۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ دہائی کے اختتام تک چین کا ICBM ذخیرہ دونوں بڑی طاقتوں کے برابر پہنچ سکتا ہے۔
وارہیڈز کی تعیناتی میں تبدیلی
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چین کے بیشتر جوہری ہتھیار اب بھی میزائلوں سے الگ رکھے جاتے ہیں، تاہم حالیہ برسوں میں اس نے بعض موبائل میزائل یونٹوں پر امن کے دور میں بھی وارہیڈز تعینات کرنا شروع کر دیے ہیں۔ جنوری 2025 میں چین کے پاس 24 تعینات وارہیڈز تھے، جو 2026 میں بڑھ کر 34 ہو گئے۔ امریکی ذرائع کے مطابق امکان ہے کہ چین نے اپنے نئے میزائل سائلو علاقوں میں موجود تقریباً 100 میزائلوں میں سے بعض پر وارہیڈز نصب کر دیے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک جوہری توانائی سے چلنے والی آبدوز پر بھی جوہری ہتھیار تعینات کیے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
نئی میزائلیں اور جوہری صلاحیت رکھنے والے بمبار طیارے
گزشتہ سال چین نے فوجی پریڈ کے دوران نئی بین البراعظمی میزائلیں، آبدوز سے داغی جانے والی بیلسٹک میزائلیں اور فضائی حملوں کے لیے جوہری صلاحیت رکھنے والے ہتھیاروں کی نمائش کی تھی۔ چین نے DF-26 میزائلوں کی تعداد میں اضافہ کیا ہے اور اپنے بمبار طیاروں کو بھی جوہری ہتھیار لے جانے کے قابل بنا دیا ہے۔
روس اور امریکہ کے مقابلے میں صورتحال
SIPRI کے مطابق اگر 2030 تک چین کے پاس ایک ہزار سے زائد وارہیڈز بھی ہو جائیں، تب بھی یہ تعداد امریکہ اور روس کے موجودہ جوہری ذخائر کے تقریباً ایک چوتھائی کے برابر ہوگی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا کے تمام نو جوہری طاقت رکھنے والے ممالک — امریکہ، روس، چین، برطانیہ، فرانس، بھارت، پاکستان، شمالی کوریا اور اسرائیل — اپنے جوہری ہتھیاروں کو مسلسل جدید بنا رہے ہیں۔ جنوری 2026 تک دنیا بھر میں مجموعی طور پر 12,187 جوہری وارہیڈز موجود تھے، جن میں سے 9,745 فوجی استعمال کے لیے محفوظ رکھے گئے تھے۔

