تحریر: اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی (پی آئی سی) کے پروفیسر ڈاکٹر احمد نعمان کا نام بھی انہی شخصیات میں شمار کیا جاتا ہے جنہوں نے اپنے پیشے کو محض روزگار نہیں بلکہ خدمتِ خلق کا ذریعہ بنایا۔ امراضِ قلب کے شعبے میں ان کی مہارت، مریضوں سے خوش اخلاقی اور علاج کے دوران ان کی غیر معمولی توجہ انہیں دیگر معالجین سے ممتاز کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پنجاب سمیت ملک کے مختلف علاقوں سے مریض ان سے مشورہ لینے کے لیے آتے ہیں اور گھنٹوں انتظار کو بھی اپنے لیے اعزاز سمجھتے ہیں۔

ہمارے نظامِ صحت میں ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ بعض اوقات قابلیت اور عوامی مقبولیت حسد اور مخالفت کو جنم دیتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہر شعبے میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے افراد کو مشکلات، رکاوٹوں اور مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ مگر اصل کامیابی یہی ہے کہ انسان اپنے مقصد سے پیچھے نہ ہٹے اور خدمت کا سفر جاری رکھے۔ طبی حلقوں میں ایک واقعہ آج بھی زیر بحث آتا ہے جب پروفیسر ڈاکٹر احمد نعمان کا تبادلہ فیصل آباد کر دیا گیا تھا۔ سرکاری احکامات جاری ہوئے اور انہوں نے بطور سرکاری افسر اپنے فرائض کی ادائیگی کے لیے اس فیصلے کو قبول کیا۔ تاہم بعض بااثر مریضوں اور متعلقہ حلقوں کی جانب سے ان کی خدمات کی ضرورت پر زور دیا گیا، جس کے بعد اگلے ہی روز تبادلے کے احکامات واپس لے لیے گئے اور وہ دوبارہ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں خدمات انجام دینے لگے۔ یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عوامی اعتماد اور پیشہ ورانہ ساکھ بعض اوقات کسی بھی عہدے یا منصب سے زیادہ مضبوط حوالہ بن جاتی ہے۔
ڈاکٹر احمد نعمان کی ٹیم میں شامل ڈاکٹر طارق شکور، ڈاکٹر احمد طارق اور رجسٹرار ڈاکٹر فہد جیسے نوجوان معالج بھی اسی جذبے کے ساتھ خدمات انجام دے رہے ہیں۔ یہ اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ ایک اچھا استاد صرف مریضوں کا علاج نہیں کرتا بلکہ آنے والی نسل کے ڈاکٹروں کی تربیت بھی کرتا ہے۔ اگر ایسے سینئر معالجین کی سرپرستی کی جائے تو پاکستان میں انسان دوست اور پیشہ ور ڈاکٹروں کی ایک پوری نسل تیار کی جا سکتی ہے۔ اسی تناظر میں مرحوم پروفیسر ڈاکٹر جواد ظہیر کا کردار بھی قابلِ ذکر ہے۔ ان کی زندگی طبی اخلاقیات، میرٹ اور اصول پسندی کی ایک روشن مثال تھی۔ وہ مریضوں کے حقوق پر سمجھوتہ نہیں کرتے تھے اور ہر مریض کو برابر اہمیت دیتے تھے۔ ان کا یہ طرزِ عمل اس بات کا ثبوت تھا کہ ایک سچا معالج طاقتور اور کمزور کے درمیان فرق نہیں کرتا بلکہ صرف مریض کو دیکھتا ہے۔ اسی طرح مرحوم پروفیسر ڈاکٹر جواد ظہیر کی اصول پسندی بھی طبی حلقوں میں ایک مثال کے طور پر بیان کی جاتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ایک موقع پر ان کا تبادلہ رحیم یار خان کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے اپنے اصولی مؤقف کے مطابق استعفیٰ دینے کو ترجیح دی، جس کے انکی مریضہ اعلی حکومتی شخصیت کی اہلیہ کی مداخلت کے بعد معاملہ دوبارہ زیر غور آیا اور تبادلے کے احکامات منسوخ کر دیے گئے۔ یہ واقعہ اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ پیشہ ورانہ دیانت داری اور مریضوں کے حقوق پر غیر متزلزل یقین بعض اوقات انتظامی فیصلوں پر بھی اثر انداز ہو جاتا ہے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتِ پنجاب، بالخصوص وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، ایسے ڈاکٹرز کی حوصلہ افزائی کے لیے خصوصی اقدامات کریں جو دیانت داری، قابلیت اور انسانیت کے جذبے کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ جدید طبی سہولیات، تحقیقی وسائل، تربیتی پروگرام اور انتظامی معاونت ان معالجین کو فراہم کی جائے تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو مزید بہتر انداز میں بروئے کار لا سکیں۔
مزید برآں، ملک میں میڈیکل تعلیم اور تربیت کے نظام کو اس انداز میں استوار کرنے کی ضرورت ہے کہ نوجوان ڈاکٹر صرف ڈگری حاصل نہ کریں بلکہ خدمتِ خلق کے جذبے سے بھی سرشار ہوں۔ ایسے پروگرام متعارف کرائے جا سکتے ہیں جن کے ذریعے تجربہ کار اور انسان دوست ڈاکٹر نئی نسل کی رہنمائی کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ پالیسی ساز اس امر پر بھی غور کر سکتے ہیں کہ سرکاری وسائل سے تربیت حاصل کرنے والے ڈاکٹر ایک مناسب مدت تک ملک میں خدمات انجام دیں تاکہ عوام کو ان کی مہارت سے بھرپور فائدہ پہنچ سکے۔
پاکستان کو آج ایسے ہی معالجین کی ضرورت ہے جو سفید کوٹ کو دولت کمانے کا ذریعہ نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت کا عہد سمجھیں۔ جب قابلیت، دیانت داری اور رحم دلی ایک جگہ جمع ہو جائیں تو ہسپتال محض علاج گاہ نہیں رہتے بلکہ امید کے مراکز بن جاتے ہیں۔ قومیں بھی انہی کرداروں کی بدولت ترقی کرتی ہیں جو اپنے ذاتی مفاد سے بڑھ کر عوام کے دکھ درد کو اہمیت دیتے ہیں۔
اگر ہم واقعی ایک بہتر صحت کا نظام چاہتے ہیں تو ہمیں ایسے ڈاکٹرز کو تلاش کرنا، ان کی حوصلہ افزائی کرنا اور انہیں آگے بڑھانا ہوگا جو ہر دھڑکتے دل کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو عوام کے اعتماد کو بحال اور نظامِ صحت کو مضبوط بنا سکتا ہے۔

