تحریرحاجی فضل محمود انجم
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
صوبہ پنجاب میں اسکولز اور کالجز کیا پرائیویٹ ہونا شروع ہوۓ کہ پڑھے لکھے اور تعلیم یافتہ لوگوں کا جینا ہی عذاب ہو گیا۔اب وہ نہ مرتے ہیں اور نہ ہی جیتے ہیں کیونکہ جیتے ہیں تو ہر طرح سے تذلیل ہی تذلیل اور ذلالت ہی ذلالت اور اگر مرتے ہیں تو ان والدین کے گھر اجڑتے ہیں جو اپنے ان نوجوان بچوں سے سہانے مستقبل کی آس و امید لگاۓ بیٹھے ہیں۔ کتنی ستم ظریفی اور بدنصیبی ہے! ان لوگوں کی جنہوں نے کثیر سرمایہ اور وقت لگا کر "ایم اے کیا،ایم فل” کیا اور حتی! کہ” پی ایچ ڈی” کیا۔۔۔۔اس امید پر۔۔۔۔کہ حکومت انہیں انکی کوالیفیکشن کے مطابق بطور استاد قوم کی خدمت کرنے کا موقع فراہم کریگی لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔ واۓ ناکامی اسکولز اور کالجز کو انہیں دیدیا گیا جو شعبہ تعلیم کو محض ایک کاروبار سمجھتے ہیں اور اپنا نفع و نقصان دیکھ کر سودا طے کرتے ہیں۔ان سکولوں میں نہ تو بنیادی سہولیات میسر ہیں اور نہ ہی معیارِ تعلیم کا کوئی وجود ہے، جبکہ پیف کا کوالٹی مینجمنٹ سسٹم اس وقت مکمل طور پر اوور لوڈڈ، ناکام اور مفلوج ہو چکا ہے۔ ان "تعلیمی تاجروں” نے مانیٹرنگ سے بچنے اور دھوکہ دہی کے ایسے طریقے ایجاد کر لئے ہیں جن کی آڑ میں وہ اربابِ اختیار کو ‘سب اچھا ہے’ کی جھوٹی رپورٹس دکھا کر اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہے ہیں۔
صوبہ پنجاب کی یہ خوش قسمتی ہے کہ بہت عرصے بعد اسے شعبہ تعلیم کیلئے رانا سکندر حیات کی شکل میں ایک ورکر اور اعلی! منتظم قسم کا وزیر ملا ہے جو بڑے تدبر و تفکر اور دانشمندی سے محکمہ تعلیم کو چلا رہے ہیں اور اس شعبے کو درہیش مسائل کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر جناب وزیرِ تعلیم نے فوری طور پر پیف کی نگرانی کے لیے پیرا فورس کی طرز پر ایک آزاد اور خود مختار مانیٹرنگ فورس تشکیل نہ دی اور اس نظام کو سخت ترین احتساب کے شکنجے میں نہ لائے، تو یاد رکھیں کہ یہ تعلیمی لوٹ سیل بہت جلد ایک عظیم میگا سکینڈل کی صورت میں پھٹے گی جس کا خمیازہ ہماری آنے والی نسلوں کو بھگتنا پڑے گا۔ گویا تعلیمی نظام کو ٹھیکیداروں کے حوالے کرنا بہت بڑی غلطی ہے۔ یہی ٹھیکیدار ان پڑھے لکھے ایم فل اور پی ایچ ڈی ڈگری ہولڈرز کو زیادہ سے زیادہ بیس ہزار روپے سکہ رائج الوقت پر اپنے ہاں ذاتی نوکری کی پیشکش کرتے ہیں دوسری طرف ایک کم تعلیم یافتہ شخص کو ستھرا پنجاب میں چالیس ہزار روپے مشاہرے پر ملازمت دیتے ہیں۔ گویا پاکستان میں ٹیچنگ اب ایک میٹھا زہر ہے جہاں آمدن کم، محنت زیادہ، نہ ہی عزت اور جوانی کے قیمتی سال ضائع ہو جاتے. آخر میں صرف پچھتاوا۔گویا اب پڑھنا لکھنا اور اعلی! تعلیم حاصل کرنا اب ہوا کار لا حاصل اور محض بیکار کیونکہ نہ تو ملازمت ملنی ہے اور نہ ہی کوئی اور قابل عزت ذریعہ معاش۔یہ سب ظلم و ستم غریب کے بچوں کیساتھ روا رکھا جا رہا ہے اور ساری کی ساری نوازشات و عنایات کا رخ اشرافیہ کے بچوں کی طرف کر دیا گیا ہے شجو کہ پہلے بھی تھا لیکن اب کچھ زیادہ ہی کر دیا گیا ہے۔ چنانچہ پڑھے لکھے لوگو۔۔۔۔اب تم ہی کچھ شرم کرلو۔۔۔۔اور۔۔۔۔ چھوڑ دو پڑھنا لکھنا کیونکہ ذلیل و رسوا ہونے سے بہتر ہے کہ بندہ ایسی راہ پہ چلے ہی کیوں! ۔۔۔جہاں سے کچھ ملنا ہی نہیں۔
ایسے میں کیا آپ کے پاس اس سوال کا جواب ہے؟کہ ان تعلیمی اداروں اور ہسپتالوں کے پرائیویٹ ہونے کے بعد ان اسکولز و کالجز اور یونیورسٹیز سے فارغ التحصیل طلبہ آخر کہاں جائیں گے۔؟ آج ہر ایک نوجوان یہی سوال کرتا نظر آتا ہے۔


