اسلام آباد:پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری کے عمل میں ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے ادارے پر مالی بوجھ کم کرنے اور آپریشنز کو ہموار کرنے کے لیے پی آئی اے کی ملکی اور غیر ملکی 12 اہم جائیدادوں کو نئے مالکان کے حوالے کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
نجکاری کے اس عمل میں پی آئی اے کی بیرونِ ملک واقع جائیدادیں خاص طور پر توجہ کا مرکز ہیں، جن کی مالیت کروڑوں میں ہے:
امریکہ: ایک رہائشی جائیداد جس کی مالیت 1.935 ملین ڈالر ہے۔
نیدرلینڈز: ایمسٹرڈیم میں واقع پی آئی اے کا سیلز آفس 2.105 ملین یورو جبکہ کنٹری مینیجر کی رہائش گاہ 767,000 یورو مالیت کی ہے۔
بھارت: نئی دہلی میں واقع ایئر لائن کا سیلز آفس 121.9 ملین روپے اور ایک رہائشی جائیداد 112.5 ملین روپے کی ہے۔
پاکستان کے بڑے شہروں میں موجود پی آئی اے کے دفاتر بھی اس نجکاری پیکج کا حصہ ہیں، جن کی مالیت اربوں روپے بنتی ہے پشاور: سیلز آفس 5.56 ارب روپے کے ساتھ اس فہرست میں سب سے مہنگی جائیداد ہے۔اسلام آباد: سیلز آفس کی مالیت 2.68 ارب روپے ہے۔راولپنڈی: بکنگ آفس 2.55 ارب روپے کی مالیت کا حامل ہے۔کوئٹہ: سیلز آفس کی مالیت تقریباً 916 ملین روپے ہے۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اقدام پی آئی اے کی تنظیم نو اور اسے خسارے سے نکالنے کے وسیع تر پروگرام کا حصہ ہے۔ ایئر لائن طویل عرصے سے شدید مالی بحران کا شکار ہے، اور ان اثاثوں کی فروخت یا منتقلی سے حاصل ہونے والی رقم سے ایئر لائن کے مالی بوجھ کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔
معاشی ماہرین اس اقدام کو پی آئی اے کی نجکاری کی سمت میں ایک حتمی فیصلہ قرار دے رہے ہیں، جس کا مقصد قومی ایئر لائن کو دوبارہ قابلِ عمل بنانا اور اسے نجی شعبے کے تعاون سے عالمی معیار کے مطابق چلانا ہے۔
کیا یہ اثاثے فروخت ہونے کے بعد پی آئی اے اپنے پاؤں پر کھڑی ہو سکے گی؟ یہ سوال اس وقت ایوی ایشن کے حلقوں میں موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔

