واشنگٹن/تہران:امریکا اور ایران کے درمیان جاری بالواسطہ مذاکرات کے حوالے سے قیاس آرائیوں کا سلسلہ عروج پر ہے۔ اگرچہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے فی الحال مذاکرات میں تعطل کا اعلان کیا ہے، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ہفتے کے اختتام تک معاہدے کی امید نے دنیا بھر کی توجہ اس طرف مبذول کرا دی ہے۔ اس اہم پیش رفت کے درمیان، باخبر ذرائع نے اس ‘عبوری معاہدے’ کی تفصیلات کا انکشاف کیا ہے جس پر تہران اور واشنگٹن کے درمیان بات چیت جاری ہے۔
معاہدے کا چار مرحلوں پر مشتمل ‘روڈ میپ’
ذرائع کے مطابق، یہ عبوری معاہدہ چار اہم مراحل میں تقسیم کیا گیا ہے، جس میں سے ہر مرحلے کی کامیابی اگلے مرحلے کے آغاز کے لیے لازمی ہوگی۔
پہلا مرحلہ: کشیدگی کا خاتمہ
اس ابتدائی مرحلے کا بنیادی ہدف جاری جنگ بندی کو مستحکم کرنا اور براہِ راست فوجی کارروائیوں کا مکمل خاتمہ ہے۔ تہران کی جانب سے یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ لبنان کی صورتحال کو بھی اس معاہدے کا حصہ بنایا جائے۔
دوسرا مرحلہ: عالمی جہاز رانی کا تحفظ
مذاکرات کا دوسرا اہم نکتہ آبنائے ہرمز کی سلامتی ہے۔ اس مرحلے کے تحت بین الاقوامی بحری راستوں کو مکمل طور پر کھولنے، جہازوں پر عائد پابندیاں ہٹانے اور توانائی کی ترسیل کے راستوں کو محفوظ بنانے کے لیے خصوصی سکیورٹی انتظامات طے کیے جائیں گے۔
تیسرا مرحلہ: اقتصادی ریلیف اور اعتماد سازی
یہ مرحلہ ایران کے لیے معاشی اعتبار سے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کے تحت ایران پر عائد بعض پابندیوں میں نرمی، منجمد اثاثوں کے ایک حصے کی رہائی اور تیل کی برآمدات بحال کرنے جیسے اقدامات شامل ہیں، جن کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد سازی کو فروغ دینا ہے۔
چوتھا مرحلہ: جوہری پروگرام پر حتمی تزویراتی مذاکرات
یہ معاہدے کا سب سے پیچیدہ اور مشکل ترین مرحلہ ہے۔ اس میں ایران کے جوہری پروگرام، یورینیم کی افزودگی کی سطح، عالمی نگرانی کا سخت نظام اور خطے میں طویل المدتی سکیورٹی کے معاملات پر بات چیت ہوگی۔
مذاکرات کا مستقبل کیا ہوگا؟
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان بنیادی نوعیت کے اختلافات بدستور موجود ہیں، لیکن ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ‘تحریری معاہدے’ پر اصرار اور ایران کی معاشی مشکلات، فریقین کو ایک متفقہ حل کی جانب لے جانے پر مجبور کر رہی ہیں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا ہفتے کے اختتام تک یہ مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچ پاتے ہیں یا خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال ان سفارتی کوششوں کو دوبارہ کسی بحران کی نذر کر دے گی۔

