ہنگورجا: رپورٹ فیاض محسن سولنگی
روہڑی کینال سے نکلنے والی ہنگورجا مائنر، جو ہزاروں ایکڑ زرعی زمینوں کو سیراب کرتی ہے، محکمہ آبپاشی کے عملے اور شاخ کو پکا کرنے والے ٹھیکیدار کی مبینہ نااہلی کے باعث کرپشن کی نذر ہوگئی ہے۔ مبینہ کرپشن کے خلاف گاؤں گاد کے رہائشی آبادگاروں نے احتجاج کیا۔کونسلر فیض محمد سہتو کی قیادت میں آبادگاروں نے ہنگورجا مائنر کے مختلف مقامات پر پڑنے والے شگاف (گھاروں) کو بند نہ کرنے پر محکمہ آبپاشی کے انجینئرنگ عملے کے خلاف سٹی پریس کلب ہنگورجا کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ چھ ماہ قبل شاخ کی پختگی کا کام شروع کیا گیا تھا، جس کی وجہ سے گندم کی فصل بھی متاثر ہوئی، لیکن ہنگورجا مائنر کا کام مکمل نہ ہوسکا۔مظاہرین نے محکمہ آبپاشی کے عملے اور ٹھیکیدار پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ مائنر کے اطراف موجود کروڑوں روپے مالیت کے درخت مبینہ طور پر رشوت اور ملی بھگت کے ذریعے کٹوائے گئے، جس سے حکومت اور آبادگاروں کو بھاری نقصان پہنچا اور کرپشن کی گئی۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ متعلقہ ادارے اس معاملے کی مکمل تحقیقات کرکے ذمہ دار افراد کے خلاف مقدمہ درج کریں ہنگورجا مائنر میں شگاف پڑنے کے باعث پانی ان کی فصلوں، گاؤں کے اسپتال، گلیوں اور گھروں میں داخل ہوگیا ہے، جس کے باعث پورے گاؤں میں خوف و ہراس کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے اور لوگ راتیں جاگ کر گزارنے پر مجبور ہیں۔مظاہرین نے وزیر آبپاشی سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لے کر مبینہ نااہل انجینئرنگ عملے اور کرپٹ ٹھیکیدار کے خلاف تحقیقات کروا کر قانونی کارروائی عمل میں لائیں۔

