تحریر : سہیل احمد رانا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

یہ عدم توازن اب خطرناک شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کوئی بھی طویل تنازع پاکستان جیسے ممالک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں، افراطِ زر، بجلی کے نرخوں، ٹرانسپورٹ اخراجات اور خوراک کی قیمتوں کو براہِ راست متاثر کرے گا، کیونکہ پاکستان درآمدی توانائی پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ پاکستان پہلے ہی معاشی کمزوری، قرضوں کے دباؤ اور کرنسی کے عدم استحکام کا سامنا کر رہا ہے، جبکہ بیرونی جغرافیائی سیاسی جھٹکے عوامی مشکلات میں مزید اضافہ کر سکتے ہیں۔
اسی تناظر میں روسی صدر ولادیمیر پوتن کا امریکی سفارتی سرگرمیوں کے فوراً بعد چین کا اہم دورہ بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ چین، روس اور ایران کے درمیان ابھرتے ہوئے اسٹریٹجک اشتراک کی عکاسی کرتا ہے، جو مغربی اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے اور ایک زیادہ کثیر قطبی عالمی نظام کو فروغ دینے کی کوشش ہے۔ برکس اور یوریشین سیاست میں ایران کا بڑھتا ہوا کردار بھی اسی تبدیلی کا حصہ ہے۔
لہٰذا پاکستان کے پالیسی سازوں اور میڈیا حلقوں میں سنجیدگی سے یہ سوال زیرِ بحث آنا چاہیے کہ چین، روس اور ایران کے مضبوط ہوتے ہوئے اتحاد کے جنوبی ایشیا پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ برکس کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور ڈی ڈالرائزیشن کی کوششوں پر امریکہ کا ردِعمل کیا ہوگا؟ اور خلیجی ریاستیں آخر کب تک واشنگٹن، بیجنگ اور تہران کے درمیان توازن برقرار رکھ سکیں گی؟
بدقسمتی سے ایسے موضوعات ہماری ٹی وی اسکرینوں پر شاذ و نادر ہی دکھائی دیتے ہیں۔
برکس کے اندر بھی اختلافات موجود ہیں۔ ایران اور متحدہ عرب امارات بظاہر ایک ہی پلیٹ فارم کا حصہ ضرور ہیں، مگر ان کی اسٹریٹجک ترجیحات ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ تہران مزاحمتی سیاست اور اسٹریٹجک خودمختاری کو ترجیح دیتا ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات معاشی عملیت پسندی اور متوازن عالمی شراکت داری پر زور دیتا ہے۔ یہ تضادات واضح کرتے ہیں کہ ابھرتے ہوئے عالمی بلاکس نظریاتی اتحاد نہیں بلکہ بدلتے ہوئے قومی مفادات پر قائم اشتراک ہیں۔
اسی دوران ایک اور خاموش بحران بھی شدت اختیار کر رہا ہے جسے مطلوبہ توجہ نہیں مل رہی: ماحولیاتی بگاڑ۔ پاکستان میں گرمیوں کے ابتدائی مہینوں ہی میں درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھ رہا ہے، ماحولیاتی حالات خراب ہو رہے ہیں، پانی کا دباؤ بڑھ رہا ہے اور شہری علاقوں میں حدت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ ہیٹ ویوز، بے ترتیب مون سون، زرعی بحران اور توانائی کی بڑھتی ہوئی طلب جیسے خطرات مسلسل بڑھ رہے ہیں، مگر ماحولیاتی مسائل اب بھی میڈیا کے سنسنی خیز موضوعات کے شور میں دب جاتے ہیں۔
جدید میڈیا میں سنجیدہ تجزیے کے مقابلے میں اشتعال انگیز مواد زیادہ تیزی سے توجہ حاصل کرتا ہے۔ لیکن جب صحافت معاشرے کو اسٹریٹجک حقائق سے آگاہ کرنا چھوڑ دے تو وہ اپنا قومی مقصد کھو دیتی ہے۔ دانشورانہ انحراف قوموں کے لیے اتنا ہی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے جتنا کوئی بیرونی خطرہ۔
پاکستان اس وقت کئی باہم جڑے ہوئے بحرانوں کا سامنا کر رہا ہے: جغرافیائی سیاسی عدم استحکام، افراطِ زر، توانائی کا عدم تحفظ اور ماحولیاتی کمزوری۔ یہ ایسے مسائل ہیں جن پر سنجیدہ قومی مکالمہ، بصیرت افروز سوچ اور ذمہ دار صحافت کی ضرورت ہے، نہ کہ معمولی تنازعات کے لامتناہی شور کی۔
جیسے جیسے عالمی طاقتوں کی صف بندیاں تبدیل ہو رہی ہیں اور علاقائی کشیدگی بڑھ رہی ہے، اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کی قومی گفتگو اس صورتحال کی سنگینی کو سمجھ پائے گی، یا پھر دنیا بدلتی رہے گی اور ہم محض غیر اہم موضوعات میں الجھے رہیں گے؟

