واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عوامی مقبولیت ان کی دوسری مدتِ صدارت کے دوران ریکارڈ حد تک گر گئی ہے۔ پیر کے روز جاری ہونے والے ‘نیویارک ٹائمز اور سینا کالج’ کے ایک نئے سروے کے مطابق، رواں سال ہونے والے مڈٹرم (وسطی) انتخابات سے قبل ڈیموکریٹک پارٹی نے کانگریس کے بیلٹ پر ریپبلکنز کے خلاف دو ہندسوں (ڈبل ڈیجٹ) کی واضح برتری حاصل کر لی ہے۔
سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی عوام میں ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کے خلاف شدید مایوسی پائی جاتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ملک کی معاشی صورتحال اور ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کا صدارتی فیصلہ وہ اہم ترین عوامل ہیں جنہوں نے صدر کی مقبولیت کو نئی پستیوں میں دھکیل دیا ہے، جس کے نتیجے میں نومبر میں ہونے والے انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کو بڑے سیاسی دھچکے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
سروے کے مطابق، امریکی عوام کی بڑی اکثریت ایران کے خلاف جنگ کے آغاز کو غلط فیصلہ قرار دے رہی ہے:
صرف 30% ووٹرز کا ماننا ہے کہ جنگ شروع کرنا درست اقدام تھا۔
55% ووٹرز کا خیال ہے کہ یہ جنگ اپنے بھاری اخراجات کے لحاظ سے فائدہ مند ثابت نہیں ہوگی، جبکہ صرف 21% نے اس کے حق میں رائے دی۔
لگ بھگ دو تہائی (64%) رجسٹرڈ ووٹرز نے صدر ٹرمپ کی جنگی حکمتِ عملی کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔
مجموعی طور پر، 59% رجسٹرڈ ووٹرز صدر ٹرمپ کی بطور صدر کارکردگی سے ناخوش ہیں، جبکہ صرف 37% ان کی حمایت کر رہے ہیں۔ شدید ناراضگی کا اظہار کرنے والے ووٹرز کی تعداد 49% ہے، جو ان کے پکے حامیوں (23%) سے دو گنا سے بھی زیادہ ہے۔
صدر ٹرمپ کو اب صرف کالج کی ڈگری نہ رکھنے والے سفید فام ووٹرز اور ریپبلکن پارٹی کے روایتی ووٹرز کی اکثریت میں حمایت حاصل ہے۔ ان کے گراف میں سب سے بڑی گراوٹ ان ووٹرز میں دیکھی گئی ہے جنہیں انہوں نے 2024 کے انتخابات میں ڈیموکریٹس سے توڑا تھا:
18 سے 29 سال کے نوجوانوں میں صدر کی مقبولیت صرف 19% رہ گئی ہے۔
ہسپانوی (Hispanic) ووٹرز میں ان کی کارکردگی کی منظوری کی شرح محض 20% ہے۔
معاشی محاذ پر صدر ٹرمپ کے نمبر ان کی مجموعی مقبولیت سے بھی زیادہ خراب ہیں۔ 64% ووٹرز معیشت کو سنبھالنے کے صدارتی انداز سے ناخوش ہیں، جبکہ ایک بہت بڑی اکثریت یعنی 70% ووٹرز نے مہنگائی اور رہن سہن کے بڑھتے ہوئے اخراجات (Cost of Living) پر ٹرمپ کی پالیسیوں کو مسترد کر دیا ہے۔
مڈٹرم انتخابات کے حوالے سے جنرک بیلٹ پر ڈیموکریٹک پارٹی نے بڑی برتری قائم کر لی ہے۔ 50% رجسٹرڈ ووٹرز نے کانگریس کے لیے ڈیموکریٹک امیدوار کو ووٹ دینے کی خواہش کا اظہار کیا ہے، جبکہ صرف 39% ریپبلکنز کے حق میں ہیں۔
سروے کی سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ 2024 کے صدارتی الیکشن میں ڈونلڈ ٹرمپ کو ووٹ دینے والے 8% ووٹرز اب 2026 میں ڈیموکریٹس کی حمایت کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، آزاد ووٹرز (Independents) بھی 51% کے مقابلے میں 33% کی شرح سے ڈیموکریٹک امیدواروں کے ساتھ کھڑے ہیں
نیویارک ٹائمز اور سینا کالج نے یہ سروے 11 مئی سے 15 مئی کے دوران ملک بھر کے 1,507 رجسٹرڈ ووٹرز سے کیا۔ اس پول میں غلطی کا امکان (Margin of Error) پلس یا مائنس 2.8 فیصد ہے۔

