جیکب آباد( رپورٹ مجیب کھوسو ) پسند کی شادی کے بعد پورے گائوں کو نذرِ آتش کیے جانے کے افسوسناک واقعے نے سندھ بھر میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے، جبکہ متاثرہ جوڑے نے سندھ پولیس کے اعلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ قانون کو ہاتھ میں لینے والے عناصر کے خلاف بلاامتیاز اور سخت کارروائی کی جائے۔ واقعے کے بعد متاثرہ خاندانوں میں خوف و ہراس کی فضا برقرار ہے اور متاثرین انصاف کے منتظر ہیں۔پسند کی شادی کرنے والی خاتون سدرہ چنہ نے اپنے شوہر محمد حسن برڑو کے ہمراہ ویڈیو پیغام میں کہا کہ اگر کسی نے کوئی قدم اٹھایا ہے تو وہ دونوں ہیں، مگر اس کی سزا بے گناہ خاندانوں، بچوں اور خواتین کو دینا کسی صورت انصاف نہیں۔میرے شوہر کے معصوم رشتہ داروں کے گھروں کو نشانہ بنایا گیا۔سدرہ چنہ نے سندھ پولیس کے آئی جی سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے کا فوری اور سخت نوٹس لیا جائے اور ان تمام افراد کو گرفتار کیا جائے۔ذرائع کے مطابق پسند کی شادی کے بعد سدرہ اور ان کے شوہر محمد حسن برڑو نامعلوم مقام پر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، تاہم اس کے باوجود لڑکی کے بعض رشتہ داروں کی جانب سے حسن کے گائوں گوٹھ محمد صدیق آرائیں پر حملہ کیا گیا جہاں برڑو برادری کے تقریبا 120 گھروں کو آگ لگا دی گئی۔ واقعے کے دوران قیمتی سامان، گھریلو اشیا اور لوگوں کا مالی نقصان بھی ہوا۔یہ واقعہ 5 مئی کو پیش آیا تھا، تاہم پولیس اب تک متعدد ملزمان میں سے صرف چند افراد کو گرفتار کر سکی ہے جبکہ متاثرین کا دعوی ہے کہ کئی بااثر افراد کے نام مقدمے میں شامل ہی نہیں کیے گئے، جس کے باعث متاثرہ خاندانوں میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق پولیس نے مقدمات درج کر کے کارروائی شروع کی ہے۔
پسند کی شادی کے بعد پورے گائوں نذرِ آتش،سزا بے گناہوں کودینازیادتی،ملزموں کیخلاف کارروائی کی جائے: سدرہ چنہ کا اپنے شوہر محمد حسن برڑو کیساتھ ویڈیو پیغام

