قاضی احمد( رپورٹ: سائیں بخش لاکھو)

ہالا کے قریب گائوں خدا آباد کے رہائشی عبدالغفار ولد مولا بخش چانڈیو اور وحید ولد گلاب چانڈیو نے پریس کلب قاضی احمد پہنچ کر بااثر جرائم پیشہ افراد اور پولیس کے خلاف پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ شیر چانڈیو، نورمحمد چانڈیو، غلام حیدر چانڈیو، عیدن چانڈیو، ملوک چانڈیو، بادل چانڈیو، گلشیر چانڈیو، محمد علی چانڈیو اور دیگر ملزمان ان کے والد سے مسلسل بھتہ طلب کرتے رہے اور انکار پر اغوا کی دھمکیاں بھی دیتے رہے۔انہوں نے کہا کہ بعد ازاں مذکورہ افراد نے ان کی زمین پر قبضہ کر لیا اور مسلح افراد کے ساتھ روزانہ فائرنگ کر کے انہیں ہراساں کیا جاتا ہے جبکہ راستے بھی روکے جاتے ہیں۔ متاثرین کے مطابق انہوں نے زمین پر قبضے کے خلاف ہائی کورٹ میں کیس دائر کیا،جس پر عدالت نے اریگیشن حکام کو زمین اپنی تحویل میں لینے کا حکم دیا، مگر پولیس اور ایس ڈی او اریگیشن مبینہ طور پر ملزمان کی پشت پناہی کرتے ہوئے عدالتی احکامات کو نظر انداز کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید الزام لگایا کہ ملزمان ان کے گھر سے لاکھوں روپے مالیت کا سامان بھی لے گئے، مگر پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ متاثرین نے کہا کہ اگر انہیں جانی یا مالی نقصان پہنچا تو اس کے ذمہ دار مذکورہ ملزمان، پولیس اور ایس ڈی او اریگیشن ہوں گے۔پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے آئی جی سندھ، صوبائی وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار، آصف علی زرداری، بلاول بھٹو زرداری، فریال تالپور، سردار خان چانڈیو، حاجی علی حسن زرداری، عاشق زرداری، غلام قادر چانڈیو اور دیگر بااختیار شخصیات سے مطالبہ کیا کہ معاملے کا نوٹس لے کر انہیں انصاف اور تحفظ فراہم کیا جائے اور ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

