بلوچستان (رحمت اللہ بلوچ سے)قبائلی، سماجی و سیاسی رہنما اور میرانزئی قبیلہ کے چیف سردار، سردار جمعہ خان میرانزئی نے نوشکی کے علاقے کلی مینگل میں پیش آنے والے نہایت افسوسناک اور دلخراش واقعے پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کرتے ہوئے اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں ممتاز سماجی شخصیت، معروف دانشور، صاحبِ قلم ادیب اور ایک معزز استاد پروفیسر غمخوار حیات کا بہیمانہ قتل ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ یہ سانحہ نہ صرف ایک فرد کی شہادت ہے بلکہ علم، شعور اور فکری روشنی کے خلاف ایک بزدلانہ وار ہے۔ مرحوم نے اپنی تمام تر زندگی علم و ادب کے فروغ، نوجوان نسل کی رہنمائی اور معاشرے میں فکری بیداری پیدا کرنے کیلئے وقف کر رکھی تھی، اور ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ ایسے اندوہناک واقعات معاشرے کیلئے لمحہ فکریہ ہیں۔ اساتذہ، دانشوروں اور تعلیم یافتہ افراد کو نشانہ بنانا درحقیقت بلوچستان کے روشن اور محفوظ مستقبل پر حملہ ہے، انہوں نے حکومت بلوچستان،مطالبہ کیا ہے کہ اس سفاکانہ واقعے میں ملوث عناصر کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جائے۔
پروفیسر غمخوار حیات کا بہیمانہ قتل ناقابلِ تلافی نقصان ، ملوث عناصر کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جائے:سردار جمعہ خان میرانزئی

