واشنگٹن ڈی سی :امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک نئی اور انتہائی سخت دھمکی دیتے ہوئے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر ایک سنسنی خیز پوسٹ شیئر کی ہے۔ اس پوسٹ کے ساتھ ایک تصویر بھی اپ لوڈ کی گئی ہے، جس پر واضح الفاظ میں لکھا ہے: "طوفان سے پہلے کی خاموشی”۔ اس تصویر میں سمندر کے اندر ایرانی بحری جہازوں کو دکھایا گیا ہے، جسے ماہرین تہران کے خلاف کسی بڑے امریکی قدم کا پیش خیمہ قرار دے رہے ہیں۔
"معاہدہ کر لو ورنہ بہت برے وقت کا سامنا ہو گا”
علاوہ ازیں، فرانسیسی ٹی وی چینل ‘بی ایف ایم’ (BFM) سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے واضح کیا کہ انہیں اس بات کا بالکل اندازہ نہیں ہے کہ آیا ایران کوئی معاہدہ کرے گا یا نہیں۔ تاہم انہوں نے تہران کو خبردار کرتے ہوئے کہا:
"ایران کے لیے یہی بہتر ہے کہ وہ معاہدہ کر لے تاکہ اسے کسی بہت برے وقت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔”
🚨 BOOM. President Trump dropping the ultimate warning!
“It Was The Calm Before The Storm.” pic.twitter.com/18eQI0aD2i
— Gunther Eagleman™ (@GuntherEagleman) May 16, 2026
صدر ٹرمپ نے واشنگٹن کے "صبر کے خاتمے” پر زور دیتے ہوئے تہران کو سخت لہجے میں وارننگ دی ہے۔ انہوں نے امریکہ اور چین کے مابین ایک بڑے اور فیصلہ کن اتفاقِ رائے کا انکشاف بھی کیا، جس کے تحت دونوں عالمی طاقتیں تہران کے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی شدید مخالفت کرتی ہیں اور آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھولنے کی شرط پر متفق ہیں۔
دوسری جانب، خطے میں جنگ کے بادل گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ ایک اسرائیلی عہدے دار نے ‘چینل 13’ کو تصدیق کی ہے کہ اسرائیل میں ایران کے خلاف دوبارہ لڑائی شروع کرنے کی تیاریاں عروج پر پہنچ چکی ہیں اور اس وقت اسرائیل میں امریکی فوجی موجودگی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے۔اسرائیلی عہدے دار کے مطابق ایران کے خلاف فوجی آپریشن کا بنیادی مقصد اسے کمزور کرنا اور مذاکرات کی میز پر واپس لانا ہے۔
اگر جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو اسرائیل ایران کے اندر گیس، بجلی، تیل کے بنیادی ڈھانچے اور دیگر اہم اسٹریٹجک تنصیبات سمیت تمام باقی ماندہ اہداف کو نشانہ بنائے گا۔
آبنائے ہرمز کے حوالے سے صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے۔ ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے دعویٰ کیا ہے کہ یورپی ممالک تہران کے ساتھ پسِ پردہ مذاکرات کر رہے ہیں تاکہ آبنائے ہرمز سے اپنے بحری جہازوں کے محفوظ گزرنے کو یقینی بنا سکیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ چین، جاپان اور پاکستان سمیت مشرقی ایشیائی ممالک کے جہازوں کے بحفاظت گزرنے کے بعد پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے ساتھ یہ مذاکرات شروع ہوئے، تاہم مذاکرات میں شامل یورپی ممالک کے نام خفیہ رکھے گئے ہیں۔
دوسری طرف، امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ایران پر عائد سمندری محاصرے کے تحت سخت اقدامات کا اعلان کیا ہے۔امریکی افواج نے محاصرے کی خلاف ورزی کرنے والے 78 تجارتی جہازوں کا رخ موڑ دیا ہے۔امریکی بحریہ نے چار جہازوں کو باقاعدہ روک کر کارروائی کی۔امریکی فوج کے ہیلی کاپٹر آبنائے ہرمز کے قریب تجارتی جہازوں کی مسلسل فضائی نگرانی کر رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے حتمی بیان میں صاف کہا ہے: "ہم نہیں چاہتے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوں اور ہم چاہتے ہیں کہ آبنائے ہرمز کھلی رہے”۔ انہوں نے انتباہ کیا کہ اگر کوئی معاہدہ نہ ہوا تو امریکہ اضافی اور سخت ترین اقدامات اٹھانے سے بالکل نہیں ہچکچائے گا، جو کہ پابندیوں اور سمندری محاصرے کے ساتھ ساتھ فوجی طاقت کے استعمال کے تسلسل کا واضح اشارہ ہے۔
اس شدید دباؤ کے باوجود، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ تہران کو امریکہ کی جانب سے ایسے پیغامات موصول ہوئے ہیں جو اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ واشنگٹن اب بھی بات چیت اور رابطے جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ "طوفان سے پہلے کی خاموشی” کسی بڑے عالمی تصادم کا روپ دھارتی ہے یا پسِ پردہ سفارت کاری خطے کو کسی بڑی تباہی سے بچا لے گی۔

