اسلام آباد (رپورٹ:عاشر علی)

بین الاقوامی بحری اداروں اور انڈونیشیائی کمپنی کے ذرائع کے مطابق، صومالی ڈاکوؤں نے عملے کی بحفاظت رہائی اور جہاز کو چھوڑنے کے بدلے 1 کروڑ امریکی ڈالرز (تقریباً 2 ارب 78 کروڑ پاکستانی روپے) بھاری تاوان کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ اغوا کاروں نے کسی بھی ملک کی حکومت سے براہِ راست بات چیت کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے اور وہ صرف انڈونیشیائی شپنگ کمپنی کے نمائندوں کے ساتھ تاوان کی رقم پر سودے بازی کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ڈاکوؤں نے پنٹ لینڈ کی مقامی حکومت کو خبردار کیا ہے کہ ساحل پر تعینات فورسز کو فوری پیچھے ہٹایا جائے، ورنہ عملے کو نقصان پہنچایا جا سکتا ہے، تاہم صومالیہ کی مقامی حکومت نے ساحلی پٹی پر فوج تعینات کر کے ڈاکوؤں کا زمینی رابطہ منقطع کر دیا ہے تاکہ انہیں باہر سے مزید اسلحہ یا خوراک نہ مل سکے اور ان پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔
حالیہ دنوں میں اغوا کاروں کی جانب سے جاری کی جانے والی ایک دلدوز ویڈیو نے مغویوں کی انتہائی ناگفتہ بہ حالت کو بے نقاب کیا ہے، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جہاز پر موجود کھانے پینے کا تمام راشن ختم ہو چکا ہے اور عملے کو دن میں صرف ایک بار ابلے ہوئے سادے چاول دیے جا رہے ہیں جبکہ ملاحوں کو جہاز کے زنگ آلود اور گندے ٹینکوں کا پانی پینے پر مجبور کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے کئی ملاح پیٹ اور جلد کی بیماریوں کا شکار ہو چکے ہیں۔ اسی ویڈیو پیغام میں پاکستانی سیکنڈ انجینئر سید حسین یوسف نے روتے ہوئے بتایا کہ عملے کے تمام ارکان کو ایک چھوٹے سے حبس زدہ کمرے میں بند کر کے ان پر چوبیس گھنٹے بندوقیں تانی گئی ہیں اور انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ خدا کے لیے انہیں یہاں سے نکالا جائے کیونکہ ان کے پاس وقت بہت کم ہے۔
اس بحران پر پاکستان کے سفارتی اور بحری حکام متحرک تو ہیں، لیکن تاحال کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں ہو سکی ہے، اور ترجمان دفترِ خارجہ طاہر اندراپی نے واضح کیا ہے کہ ڈاکوؤں نے حکومتِ پاکستان سے براہِ راست کوئی رابطہ نہیں کیا ہے بلکہ پاکستان اس معاملے میں انڈونیشیا کی حکومت اور جہاز کے مالکان کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے تاکہ تاوان کے مذاکرات کو تیز کیا جا سکے۔ دوسری جانب ڈی جے بوٹی میں متعین پاکستانی سفارتی وفد نے صومالیہ کے حکام سے ہنگامی ملاقاتیں کی ہیں، جہاں صومالی حکام کا کہنا ہے کہ جہاز پر کمانڈو ایکشن یا فوجی آپریشن انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ جہاز پر ہزاروں بیرل تیل موجود ہے اور معمولی فائرنگ یا چنگاری سے پورا جہاز دھماکے سے اڑ سکتا ہے، اس لیے طاقت کے استعمال کے بجائے پرامن مذاکرات کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
مغوی پاکستانی ملاحوں کے خاندان، جن کا تعلق بنیادی طور پر کراچی سے ہے، شدید ذہنی اور مالی کرب میں مبتلا ہیں کیونکہ یہ ملاح اپنے گھروں کے واحد کفیل ہیں، اور اسی وجہ سے 13 مئی کو متاثرہ خاندانوں، معصوم بچوں اور بزرگ خواتین نے کراچی کے تاریخی کے پی ٹی نیٹی جیٹی برج پر احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے روڈ بلاک کر دیا تھا اور دھمکی دی تھی کہ اگر حکومت نے ملاحوں کو رہا نہ کروایا تو وہ پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے بھوک ہڑتال کریں گے۔ اس سنگین صورتحال کو دیکھتے ہوئے پاکستان میں انسانی حقوق کے نامور اداروں بشمول انصار برنی ٹرسٹ اور ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (HRCP) نے وزارتِ بحری امور اور وفاقی حکومت کو خطوط لکھے ہیں، جن میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ وفاقی حکومت بحری قزاقی کے خلاف بین الاقوامی ٹاسک فورس (Combined Maritime Forces) سے مدد لے کر ان پاکستانیوں کی محفوظ واپسی کو ہنگامی بنیادوں پر یقینی بنائے۔

