تہران :ٹرمپ کی طرف سے جنگ بندی میں توسیع کے اعلان کے بعد آبنائے ہرمز میں تین مال بردار جہازوں پر حملے کیے گئے ہیں۔ ادھر ایرانی میڈیا کو دیے بیان کے مطابق پاسداران انقلاب کی بحریہ کا کہنا ہے کہ اس نے خلاف ورزی کے مرتکب دو جہازوں کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق آبنائے ہرمز میں نشانہ بننے والے تینوں جہازوں کو پاسداران انقلاب نے نشانہ بنایا ہے۔
پاسداران انقلاب سے وابستہ خبر رساں ادارے فارس کا کہنا ہے کہ یوفوریا نامی ایک جہاز کو نشانہ بنایا گیا اور وہ اس وقت ایرانی ساحل کے قریب گراؤنڈ ہو چکا ہے۔
ایرانی میڈیا کو دیے بیان کے مطابق پاسداران انقلاب کی بحریہ کا کہنا ہے کہ اس نے خلاف ورزی کے مرتکب دو جہازوں کو اپنی تحویل میں لیا اور ایرانی ساحل کی جانب منتقل کیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ’نظم و سلامتی میں خلل ڈالنا ہماری سرخ لکیر ہے۔‘
برطانیہ کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز سینٹر یو کے ایم ٹی او کا کہنا ہے کہ پاسداران انقلاب کی ایک گن بوٹ نے آبنائے ہرمز میں ایک کنٹینر بردار جہاز پر فائرنگ کی۔ یہ واقعہ عمان کے شمال مشرق میں تقریباً 15 بحری میل کے فاصلے پر پیش آیا جس کے نتیجے میں جہاز کے برج کو شدید نقصان پہنچا۔ اس واقعے میں ملوث جہاز ایپامینونڈاس ہے یونانی کمپنی کی ملکیت ہے۔
وینگارڈ اور یو کے ایم ٹی او کے مطابق پانامہ کا پرچم بردار جہاز یوفوریا ایران کے مغرب میں تقریباً آٹھ بحری میل کے فاصلے پر حملے کی زد میں آیا۔ کہا گیا ہے کہ جہاز کا عملہ محفوظ ہے اور جہاز کو کسی قسم کے نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ یہ جہاز متحدہ عرب امارات میں قائم ایک کمپنی کی ملکیت ہے۔
سمندری انٹیلی جنس فراہم کرنے والے ادارے وینگارڈ نے بی بی سی ویریفائی کو بتایا ہے کہ پانامہ کے پرچم بردار جہاز ایم ایس سی فرانسسکا کو ایران کے ساحل سے تقریباً چھ بحری میل کے فاصلے پر نشانہ بنایا گیا۔ اس وقت یہ آبنائے ہرمز سے جنوبی سمت میں خلیج عمان کی جانب جا رہا تھا۔ جہاز کی جانب سے ہل اور رہائشی حصے کو نقصان پہنچنے کی اطلاع دی گئی ہے۔
پاسداران انقلاب کی بحریہ کا کہنا ہے کہ ایم ایس سی فرانسسکا اور ایپامینونڈاس کو تحویل میں لے کر ایرانی ساحل کی طرف منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس نے جہازوں پر بغیر اجازت کے گزرنے کی کوشش کرنے اور بحری نیویگیشن کے نظام سے چھیڑ چھاڑ کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔

