واشنگٹن ڈی سی :امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کی لبنانی صدر جوزف عون اور اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو سے گفتگو ہوئی ہے اور یہ دونوں ممالک 10 دن کی جنگ بندی پر اتفاق کر چکے ہیں۔
ٹروتھ سوشل میں پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’امن کے حصول کے لیے ان دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا ہے کہ وہ ایسٹرن ٹائم کے مطابق شام پانچ بجے باضابطہ طور پر 10 دنوں کے لیے جنگ بندی شروع کریں گے۔‘

اپنی ایک اور پوسٹ میں انھوں نے لکھا کہ نیتن یاہو اور جوزف عون کو اسرائیل اور لبنان کے درمیان ’معنی خیز بات چیت‘ کے لیے وائٹ ہاؤس مدعو کریں گے اور یہ دونوں ممالک کے درمیان 1983 کے بعد پہلے مذاکرات ہوں گے۔
’دونوں فریق امن چاہتے ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ جلد ہی ہو جائے گا۔‘
آج رات شروع ہونے والی متوقع دس روزہ جنگ بندی اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان چھ ہفتوں سے زیادہ جاری رہنے والی جنگ کے بعد لبنان کے لیے بہت ضروری ریلیف فراہم کر سکتی ہے۔
ملک میں دو ہزار سے زیادہ افراد ہلاک اور 10 لاکھ لوگ بےگھر ہو چکے ہیں۔
ابتدائی اشاروں سے معلوم ہوتا ہے کہ حزب اللہ اس معاہدے کی پاسداری کرے گی۔
سینیئر رکن پارلیمنٹ حسن فضل اللہ کا کہنا ہے کہ انھیں قلیل مدتی جنگ بندی پر بریف کر دیا گیا ہے۔ انھوں نے اشارہ دیا کہ اسرائیل کی جانب سے ہر قسم کے حملے رُکنے کی صورت میں وہ اس جنگ بندی کی پاسداری کریں گے۔
دوسری طرف اسرائیل کے رہنما نیتن یاہو ایک بار پھر اپنے امریکی اتحادی کی جانب سے واشنگٹن کے مفادات کے مطابق قدم اٹھانے کے دباؤ میں ہیں اور ایک بار پھر انھیں اس حقیقت کا براہِ راست سامنا کرنا پڑ رہا ہے کہ یہ مفادات اُن کے اپنے مفادات سے مختلف ہیں۔

