لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے بھر میں مواصلاتی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے اہم اور بڑے روڈ پراجیکٹس کی منظوری دے دی ہے۔ وزیراعلیٰ کی زیرِ صدارت منعقدہ خصوصی اجلاس میں ملتان وہاڑی روڈ کو صوبے کی پہلی ‘ڈسٹ فری’ (گرد سے پاک) سڑک بنانے سمیت متعدد انقلابی منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
میگا پراجیکٹس کی منظوری اور اہم فیصلے
اجلاس میں صوبے کے بڑے شہروں اور دور دراز علاقوں کو آپس میں جوڑنے کے لیے درج ذیل اہم منصوبوں کی منظوری دی گئی:
لاہور رنگ روڈ (SL-4): لاہور کے ٹریفک نظام کو بہتر بنانے کے لیے ایس ایل فور منصوبے کی باقاعدہ منظوری۔
سیالکوٹ رنگ روڈ (فیز ون): وزیر آباد روڈ سے سیالکوٹ پسرور روڈ تک رنگ روڈ کی تعمیر کی اصولی منظوری۔
تھل ایکسپریس وے: بھکر اور لیہ سمیت تھل کے علاقوں کو ایم فور (M-4) سے منسلک کرنے کا بڑا منصوبہ پیش کر دیا گیا۔
راولپنڈی سگنل فری کوریڈور: اس پراجیکٹ کے تحت سات انڈر پاس اور ایک اوور ہیڈ برج تعمیر کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ 12 ہزار کلومیٹر سے زائد سڑکوں کی تعمیر و مرمت کی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ "پہلی مرتبہ دیہات کی رابطہ سڑکوں کی بحالی پر خصوصی توجہ دی گئی ہے تاکہ ‘کھیت سے منڈی’ اور ‘کارخانوں سے مارکیٹ’ تک رسائی آسان ہو سکے۔ مساوی ترقی کے لیے ہر گاؤں کی سڑک بننا ضروری ہے۔”
سیکرٹری تعمیرات و مواصلات راجہ جہانگیر انور نے بریفنگ میں بتایا کہ پنجاب میں روڈز سیکٹر کے مجموعی طور پر 2143 پراجیکٹس پر کام جاری ہے۔روڈ بحالی پروگرام کے فیز ون اور فیز ٹو کی متعدد سکیمیں مکمل ہو چکی ہیں جبکہ بقیہ پر کام جاری ہے۔
وزیراعلیٰ نے تمام زیرِ تکمیل منصوبوں کو 30 جون تک مکمل کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔
مریم نواز شریف نے ملتان وہاڑی روڈ سمیت دیگر بڑے منصوبوں کی ہفتہ وار رپورٹ طلب کرتے ہوئے کام کی کوالٹی اور بروقت تکمیل کو ہر صورت یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ اس کے علاوہ ‘لاہور ٹورازم ہائی وے’ کے جائزے کے دوران انہوں نے شاہراہوں کے گرد بھرپور شجرکاری کو یقینی بنانے کا حکم بھی دیا تاکہ سڑکوں کے ساتھ ساتھ ماحول کو بھی خوشگوار بنایا جا سکے۔
یہ اقدامات ثابت کرتے ہیں کہ پنجاب حکومت صوبے کو ایک جدید معاشی حب بنانے کے لیے انفراسٹرکچر کی مضبوطی کو اولین ترجیح دے رہی ہے۔

