غازی آباد، بھارت: وہ صرف 19 سال کی تھی، آنکھوں میں ڈھیروں خواب اور دل میں سوشل میڈیا پر مشہور ہونے کی تڑپ۔ اتوار کا دن اس کے لیے کسی مہم جوئی سے کم نہ تھا، لیکن اسے کیا معلوم تھا کہ جس اسپورٹس بائیک پر وہ ہواؤں سے باتیں کر رہی ہے، وہی اس کا آخری سفر ثابت ہوگی۔ غازی آباد کے نیشنل ہائی وے پر ایک دل دہلا دینے والے حادثے میں 19 سالہ اقرا اپنی زندگی کی بازی ہار گئی۔
📍Ghaziabad, Uttar Pradesh: A sports bike crashed into a divider while Ikra was riding and her friend Hashim was filming. Neither was wearing a helmet. Ikra lost her life in the incident. pic.twitter.com/n5YZXENWMe
— Deadly Kalesh (@Deadlykalesh) April 13, 2026
وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اقرا ایک تیز رفتار ‘یاماہا RX-115’ بائیک چلا رہی ہے، جبکہ اس کا دوست ہاشم پیچھے بیٹھ کر اس کی ویڈیو ریکارڈ کر رہا ہے۔ ہوا میں اڑتے بال، تیز رفتار بائیک اور کیمرے کی طرف دیکھ کر خود کو بہترین دکھانے کی کوشش—یہ سب کچھ کسی فلمی منظر جیسا تھا، مگر حقیقت میں یہ موت کا رقص تھا۔
تیز رفتاری اور ویڈیو بنانے کی دھن میں اقرا بائیک پر قابو نہ رکھ سکی اور بائیک زور دار دھماکے کے ساتھ ڈیوائیڈر سے جا ٹکرائی۔ ٹکر اتنی شدید تھی کہ دونوں سڑک پر دور جا گرے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ دونوں میں سے کسی نے بھی ہیلمٹ نہیں پہنا ہوا تھا، جو ان کی جان بچانے کا واحد ذریعہ بن سکتا تھا۔
راہگیروں کی اطلاع پر پولیس نے موقع پر پہنچ کر دونوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا، لیکن اقرا کے سر پر آنے والی گہری چوٹوں نے اسے سنبھلنے کا موقع نہ دیا۔ ڈاکٹروں نے اسپتال پہنچتے ہی اسے مردہ قرار دے دیا، جبکہ اس کا دوست ہاشم شدید زخمی حالت میں زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہا ہے۔
سوشل میڈیا کا وہم اور تلخ حقیقت
اقرا کی موت نے پیچھے کئی سوالات چھوڑ دیے ہیں۔ کیا چند سیکنڈز کی ایک ویڈیو ہماری زندگی سے زیادہ قیمتی ہے؟
سڑک پر اسٹنٹ اور ویڈیوز بنانا بہادری نہیں بلکہ خودکشی ہے۔
اقرا کی وہ آخری ادھوری ویڈیو اب سوشل میڈیا پر عبرت کا نشان بن کر گردش کر رہی ہے، جو چیخ چیخ کر پکار رہی ہے کہ شاہراہوں پر زندگی سے نہ کھیلیں، کیونکہ موت واپسی کا راستہ نہیں دیتی۔.

