بیجنگ/ریاض: دنیا بھر میں شادیوں کے بدلتے ہوئے رجحانات نے انسانی رشتوں اور اخلاقیات پر سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔ حالیہ دنوں میں چین اور سعودی عرب سے دو ایسی شادیاں منظرِ عام پر آئی ہیں جہاں عمر کا فرق اور دولت کی ریل پیل دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔
داستانِ چین: جب 2 ارب روپے میں ‘جیون ساتھی’ مل گیا
چین کی 55 سالہ بزنس ٹائیکون یو وین ہونگ نے اپنی دولت کے زور پر عمر کے فرق کو ہوا میں اڑا دیا۔ ایک غریب گھرانے سے اٹھ کر بیوٹی انڈسٹری کی ملکہ بننے والی اس خاتون نے اپنے سے 30 سال چھوٹے، یعنی 25 سالہ سابق ماڈل سے شادی کر لی۔
یو وین ہونگ نے اپنے 2001 میں پیدا ہونے والے شوہر کو شادی کے تحفے میں 5 کروڑ یوآن (پاکستانی 2 ارب روپے سے زائد) کے اثاثے دیے۔
ان تحائف میں نقد رقم، مہنگی ترین جائیداد اور مرسیڈیز گاڑیاں شامل ہیں۔
دونوں کی ملاقات 2025 میں ہوئی اور چند ہی مہینوں میں دولت کی چمک نے اس رشتے کو شادی کے بندھن میں باندھ دیا۔
داستانِ سعودی عرب: باپ کی عمر کا دولہا اور سونے میں تلی دلہن
دوسری جانب سعودی عرب سے ایک ایسی ویڈیو اور خبر وائرل ہوئی ہے جس نے انٹرنیٹ پر آگ لگا دی ہے۔ ایک 70 سالہ بزرگ نے اپنی بیٹی یا پوتی کی عمر کی 20 سالہ لڑکی سے دھوم دھام سے شادی کر لی۔
اس ‘بے جوڑ’ جوڑی کی شادی میں دولت کا بے دریغ استعمال کیا گیا۔ دولہے نے اپنی جوان دلہن کو دنیا کی مہنگی ترین گاڑی رولز رائس (Rolls-Royce) اور 5 کلو سونا تحفے میں دیا۔
سوشل میڈیا صارفین اسے "دولت کے بدلے جوانی کا سودا” قرار دے رہے ہیں، جہاں ایک معمر شخص نے اپنی رقم کے بل بوتے پر ایک ایسی لڑکی سے رشتہ جوڑا جس کی عمر اس کے بچوں سے بھی کم ہے۔
محبت یا کاروباری ڈیل؟
یہ دونوں واقعات انسانی معاشرے کے دو مختلف رخ پیش کرتے ہیں:
چین میں ایک کامیاب عورت نے اپنی پوری زندگی محنت کر کے سلطنت کھڑی کی اور اب اپنی خوشی کے لیے ایک نوجوان کو ‘مالی تحفظ’ فراہم کر کے اپنا شریکِ حیات بنایا۔ اسے لوگ "عورت کی خود مختاری” اور "محبت کی خریداری” کا نام دے رہے ہیں۔
سعودی عرب میں روایتی مردانہ بالادستی اور دولت کا مظاہرہ نظر آتا ہے، جہاں ایک بوڑھا شخص محض اپنی ہوس یا شوق کی خاطر ایک نوجوان لڑکی کی زندگی "سونے اور گاڑیوں” کے عوض خریدتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔
ان خبروں پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک صارف نے لکھا، "دنیا اب ایک ایسی مارکیٹ بن چکی ہے جہاں جذبات نہیں، بینک بیلنس دیکھا جاتا ہے، چاہے دلہن 55 سال کی ہو یا دولہا 70 سال کا۔”
یہ شادیاں ثابت کرتی ہیں کہ جب تجوری بھری ہو، تو معاشرتی روایات اور عمر کی دیواریں ریت کی دیوار ثابت ہوتی ہیں۔
دولت اور ہوس کا سنگم: کہیں 55 سالہ ‘شوگر ممی’ نے 2 ارب دے کر نوجوان شوہر پا لیا، تو کہیں 70 سالہ بوڑھے نے ‘رولز رائس’ سے 20 سالہ کلی خرید لی!

