الجزائر سٹی: کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو چہاردہم پیر کی صبح اپنے 11 روزہ تاریخی دورہ افریقہ کے پہلے پڑاؤ پر الجزائر پہنچ گئے۔ الجزائر کی سرزمین پر قدم رکھتے ہی پوپ نے نہ صرف ایک نئی تاریخ رقم کی بلکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سوشل میڈیا پر کیے گئے ذاتی حملوں کا بھی بھرپور اور دلیرانہ جواب دیا۔
الجزائر روانگی کے دوران طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پوپ لیو نے صدر ٹرمپ کی تنقید کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا:
"مجھے ٹرمپ انتظامیہ کا کوئی خوف نہیں اور نہ ہی میں انجیل کا وہ پیغام بلند آواز میں سنانے سے کتراتا ہوں جس کے لیے میں یہاں موجود ہوں۔ کلیسا کا کام ہی حق کی آواز بلند کرنا ہے۔”
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صدر ٹرمپ نے گزشتہ رات سوشل میڈیا پر پوپ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
الجزائر میں تاریخی استقبال
روم سے دو گھنٹے کی مسافت طے کرنے کے بعد پوپ کا طیارہ ٹھیک صبح 10 بجے الجزائر کے ہواری بومدین ایئرپورٹ پر اترا۔ شدید بارش کے باعث استقبالیہ تقریب ایئرپورٹ کے اندر منتقل کر دی گئی، جہاں الجزائر کے صدر عبدالمجید تبون نے ان کا استقبال کیا۔
Pope Leo XIV responded to President Trump’s social media post saying:
“I do not look at my role as being political, a politician. I don’t want to get into a debate with him. I don’t think that the message of the Gospel is meant to be abused in the way that some people are doing.” pic.twitter.com/9y7ZuhwYy2— Catholic News Service (@CatholicNewsSvc) April 13, 2026
4 کروڑ 50 لاکھ کی آبادی والے مسلم اکثریتی ملک الجزائر میں کیتھولک مسیحیوں کی تعداد 9 ہزار سے بھی کم ہے، جس کی وجہ سے اس دورے کو بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے ‘سنگِ میل’ قرار دیا جا رہا ہے۔
پوپ لیو نے خود کو ‘سن آف آگسٹین’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سینٹ آگسٹین کی سرزمین الجزائر بین المذاہب مکالمے کے لیے ایک پل کا درجہ رکھتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ دنیا کو اس وقت "پل بنانے کی ضرورت ہے، دیواریں کھڑی کرنے کی نہیں”۔
پوپ الجزائر کی جامع مسجد کا دورہ کریں گے اور شہری حکام سے ملاقات کے علاوہ افریقہ کی لیڈی آف افریقہ باسیلیکا میں مسیحی برادری سے خطاب بھی کریں گے۔
پوپ لیو کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب عالمی سیاست میں تناؤ عروج پر ہے، اور ان کا الجزائر پہنچ کر ٹرمپ کو للکارنا اس بات کا ثبوت ہے کہ ویٹیکن اب عالمی معاملات پر خاموش رہنے کے موڈ میں نہیں ہے۔

