واشنگٹن :امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ اپنی جنگ بندی کے سلسلے میں نیا اعلان کیا ہے کہ ان کی جنگ بندی کا لبنان میں اسرائیلی جنگ پر اطلاق نہیں ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی ایک شبہ پیدا کر دیا ہے کہ جمعہ کے روز اس پندرہ روز جنگ بندی کے اعلان کو آگے بڑھانے اور جنگ کو حتمی طور پر ختم کرنے کے لیے شروع ہونے والے مذاکرات میں نائب صدر جے ڈی وانس شاید اسلام آباد نہیں جائیں گے۔
انہوں نے امریکی وفد کی اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے لیے تشکیل کے بارے میں کہا ‘ میں نہیں جانتا جے ڈی وانس اسلام آباد جائیں گے۔ البتہ سٹیو وٹکوف اور جیریڈ کشنر جائیں گے۔’ ان کی طرف سے یہ بات نیو یارک پوسٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی گئی ہے۔
صدر ٹرمپ نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے اسلام آباد میں اپنے وفد کے بعض ارکان کے لیے تحفظ اور سلامتی کے ایشوز کا بھی اشارہ کیا۔ اس سے قبل ایرانی حکومت کی طرف سے اپنے نمائندوں کو اسلام آباد بھجوانے کے حوالے سے خطرہ تھا کہ امریکا اور اسرائیل ان پر قاتلانہ حملے کر سکتے ہیں۔ جیسا کہ پہلے ہی ایران کی اعلی ترین قیادت کوقتل کیا جا چکا ہے۔
اپنے بعض شبہات اور خوف کے اظہار کے باوجود صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا توقع ہے کہ پاکستان میں مذاکرات جلد ہوں گے۔ صدر ٹرمپ نے بدھ کے روز ہی ایران کے ساتھ پاکستانی کوششوں کے نتیجے میں جنگ بندی کا اعلان کیا ہے۔ لیکن بدھ کے روز کہہ دیا کہ اس جنگ بندی کے کور میں لبنان شامل نہیں ہے۔ جبکہ وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ لبنان بھی اس جنگ بندی کے اعلان میں شامل ہے۔
پتہ نہیں،نائب صدر وینس اسلام آباد جائیں گے یانہیں، لبنان جنگ بندی معاہدے میں شامل نہیں، صدر ٹرمپ

