تہران :ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی بدھ کو ایک بیان کیا جس کا عنوان تھا: ’امریکی عوام کے نام، اور ان تمام لوگوں کے نام جو غلط بیانیوں اور گھڑی ہوئی کہانیوں کے سیلاب کے باوجود سچ کی تلاش میں ہیں اور بہتر زندگی کے خواہاں ہیں‘:
انہوں نے ایکس پر چار صفحات پر مشتمل ایک بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ ’ایران—اپنے نام، کردار اور شناخت کے اعتبار سے—انسانی تاریخ کی قدیم ترین مسلسل تہذیبوں میں سے ایک ہے۔ اپنی تاریخ اور جغرافیائی برتری کے باوجود، ایران نے اپنی جدید تاریخ میں کبھی جارحیت، توسیع پسندی، نوآبادیات یا غلبے کا راستہ اختیار نہیں کیا۔
’حتیٰ کہ قبضے، حملوں اور عالمی طاقتوں کے مسلسل دباؤ کے باوجود—اور اپنے کئی ہمسایہ ممالک پر فوجی برتری رکھنے کے باوجود—ایران نے کبھی جنگ کا آغاز نہیں کیا۔ بلکہ اس نے ہمیشہ عزم اور بہادری کے ساتھ حملہ آوروں کا مقابلہ کیا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ایرانی عوام دیگر اقوام، بشمول امریکا، یورپ اور ہمسایہ ممالک کے عوام کے خلاف کوئی دشمنی نہیں رکھتے۔
’فطری طور پر، کوئی بھی ملک ایسے حالات میں اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے سے دستبردار نہیں ہوگا۔ ایران نے جو کیا ہے، اور جو کر رہا ہے وہ جائز دفاع پر مبنی ایک متوازن ردِعمل ہے، نہ کہ جنگ یا جارحیت کا آغاز۔‘
مسعود پزشکیان نے سوال کیا کہ ’کیا یہ بھی حقیقت نہیں کہ امریکا اس جارحیت میں اسرائیل کے لیے ایک پراکسی کے طور پر داخل ہوا ہے، اور اس حکومت کے زیرِ اثر ہے؟ کیا یہ درست نہیں کہ اسرائیل، ایران کے خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کر کے فلسطینیوں کے خلاف اپنے اقدامات سے عالمی توجہ ہٹانا چاہتا ہے؟ کیا یہ واضح نہیں کہ اسرائیل اب چاہتا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ آخری امریکی فوجی اور آخری امریکی ٹیکس دہندہ کے خرچ تک جاری رہے؟
”ہم جنگ نہیں، سچ کے طالب ہیں“: ایرانی صدر کا امریکی عوام کے نام 4 صفحات پر مشتمل تاریخی خط

