Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      50 سال بعد انسان دوبارہ چاند کی جانب روانہ! ناسا کا ‘آرٹیمس ٹو’ مشن 4 خلا بازوں کے ساتھ کامیابی سے لانچ

      اوریکل سے 30 ہزار ملازمین فارغ، بھارت سب سے زیادہ متاثر؛ صبح سویرے ای میل کے ذریعے نوکریوں سے نکال دیا گیا

      امریکی ویزا مشن 2027: ایچ ون بی کی رجسٹریشن مکمل، ‘پہلے آئیے پہلے پائیے’ دور ختم؛ صرف ‘اعلیٰ مہارت اور بھاری تنخواہ’ والوں کی لاٹری نکلے گی!

      کورونا کی نئی ‘خطرناک’ شکل: ‘سیکاڈا’ وائرس نے سر اٹھا لیا! امریکا سمیت 25 ممالک متاثر

      ’پروپیگنڈا وار‘: اب ایلون مسک بچائیں گے امریکہ کی لاج؟ مارکو روبیو کا سفارت خانوں کو ’نفسیاتی جنگ‘ شروع کرنے کا حکم!

    • بلاگ
    • ویڈیوز

      خارگ جزیرے پر ممکنہ امریکی حملہ ، لیگو ویڈیو جاری

      بیانئے کی جنگ میں ٹیکنالوجی کا استعمال

      ایران کے سابق صدر احمدی نژاد منظر عام پر آگئے

      دبئی ائیرپورٹ پر میزائل حملہ ، 4 زخمی

      مناما،امریکی پانچواں فلیٹ سروس سینٹر کا تازہ ترین ایرانی حملے کے بعد مکمل صفایا

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    ”ام رباب کو انصاف کون دے گا۔۔۔؟“ میاں حبیب کا کالم

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر:میاں حبیب
    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
    پاکستان کا نظام انصاف بڑا پچیدہ اور مضحکہ خیز ہے یہاں مقتول کو ثابت کرنا پڑتا ہے کہ وہ کیوں قتل ہوا شک کے تمام تر فائدے قاتل کو دیے جاتے ہیں قاتل قتل کرکے مقتول کے لواحقین کی بےبسی پر قہقہے لگا رہا ہوتا ہے اور مدعی سر توڑ کوشش کے باوجود یہ ثابت نہیں کر پاتا کہ مقتول کیونکر مارا گیا تھا مدعی کے ایک ایک لفظ ایک ایک نقطے اور زیر زبر کا پوسٹمارٹم کیا جاتا اور ہر بات سے شکوک وشبہات نکالنے کی کوشش کی جاتی ہے پاکستان میں انصاف کا حصول جوئے شیر لانے کے مترادف ہے سندھ کے علاقے مہیڑ ضلع دادو کا ایک قتل کیس اس کی مثال ہے 17جنوری 2018 کو ایک وقوعہ ہوتا ہے جس میں صبح 9بجے آتشیں اسلحہ سے لیس افراد گاڑیوں میں سوار ہو کر آتے ہیں اور فائرنگ کرکے دوسگے بھائیوں اور ان کے والد کو قتل کر دیتے ہیں دو افراد کی موقع پر موت ہو جاتی ہے جبکہ تیسرے کو شدید زخمی حالت میں لاڑکانہ کے ہسپتال داخل کروا دیا جاتا ہے جہاں شام کو اس کی بھی موت ہو جاتی ہے لواحقین پوسٹمارٹم کروانے اورتدفین کے بعد مقدمہ درج کرواتے ہیں مقدمہ 18 جنوری 2018 کو پرویز احمد کی مدعیت میں درج ہوتا ہے جس کے دوبھائیوں اور والد کا قتل ہوا ہوتا ہے ایک مقتول کی بیٹی جلد انصاف کے لیے کبھی ننگے پاؤں تو کبھی لالٹین لے کر عدالتوں کے چکر لگاتی ہے سوشل میڈیا اور عوام میں اس کوزبردست پذیرائی ملتی ہے لوگ اس کو جلد انصاف دلانے کے لیے آواز بھی اٹھاتے ہیں لیکن نہ پولیس نہ عدالتوں اور نہ ہی اداروں کی جانب سے اسے کوئی پذیرائی حاصل ہوتی ہے وہ بچی ام رباب اسلام آباد پہنچتی ہے اور اس وقت کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی گاڑی کے آگے کھڑی ہو کر انھیں روک لیتی ہے چیف جسٹس صاحب اسے یقین دہانی کرواتے ہیں کہ آپ کے کیس کا فیصلہ دو ماہ میں ہو جائے گا بعد ازاں تحریری طور بھی ڈائریکشن دی جاتی ہے کہ اس کیس کا فیصلہ تین ماہ میں کیا جائے لیکن عملی طور پر اس کا الٹ اثر ہوتا ہے پہلے یہ کیس انسداد دہشتگردی کی عدالت میں چل رہا ہوتا ہے جہاں قانون کے مطابق چھ ماہ میں فیصلہ ہو نا ہوتا ہے لیکن بعد ازاں یہ کیس ٹرائل کورٹ سیشن کورٹ میں بھیج دیا جاتا ہے جہاں 8سال تک کیس لٹکا دیا جاتا ہے 8سالوں میں 392 پیشیوں کے بعد ایڈیشنل سیشن جج اس قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہیں اور 2ارکان سندھ اسمبلی سمیت آٹھوں ملزموں کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے باعزت بری کر دیتے ہیں فیصلہ سننے کے بعد ام رباب باپ چچا اور دادا کی قبروں پر جاتی ہے اور قبروں سے لپٹ کر آہ وزاری کرتے ہوئے کہتی ہے کہ میں آپ کو انصاف نہ دلا سکی دوسری جانب المیہ دیکھیں بااثر ملزمان کےبری ہونے پر ان پر سرخ گلابوں کی پتیاں نچھاور کی جاتی ہیں جلوس کی صورت میں انھیں لے جایا جاتا ہے اور زبردست ہوائی فائرنگ کرکے جشن منایا جاتا ہے جس کی فوٹیج سوشل میڈیا پر چل رہی ہے فرض کریں ملزم بے گناہ تھے لیکن سرعام ہوائی فائرنگ تو ساری دنیا نے دیکھی ہے اس پر بھی قانون خاموش ہے کسی پولیس اہلکار کو جرآت نہیں ہوئی کہ وہ قانون کی اس خلاف ورزی پر ہی کوئی کارروائی کرکے کم از کم یہ تاثر تو برقرار رکھ لیتا کہ قانون موجود ہے انتہائی بدقسمتی کہ پورے پاکستان میں قانون نافذ کرنے والوں کے کان پر جوں بھی نہیں رینکی
    اب ذرا قتل کیس کے حوالے سے دیکھ لیں کہ ملزمان کیوں بری ہوگئے قرار دیا گیا کہ ایف آئی آر 16 گھنٹوں کی تاخیر سے درج کروائی گئی حالانکہ مدعی وقوعہ سے دو سو میٹر کے فاصلے پر ہسپتال میں موجود تھا تاخیر سے شکوک وشبہات پیدا ہوتے ہیں کہ ملزمان کے خلاف ایف آئی آر باقاعدہ مشاورت اور منصوبہ بندی سے درج کروائی گئی ہے،لامحالہ سی بات ہے اتنے بڑے وقوعہ کے بعد انسان کے اوسان خطا ہوجاتے ہیں مدعی مقتولین کو دیکھتا کافی دور لاڑکانہ ہسپتال میں داخل زخمی کو دیکھتا پوسٹمارٹم کرواتا تدفین کا بندوبست کرتا یا بروقت ایف آئی آر درج کرواتا
    عینی شاہدین کے بیانات بھی بدنیتی پر مبنی قرار دیے گئے ہیں کہ عدالت میں گواہان نئی تفصیلات سامنے لے آئے جو ایف آئی آر اور پولیس بیان میں نہیں تھی،یہ بھی نکتہ اٹھایا گیا کہ اگر ملزمان سارے خاندان کو ختم کرنا چاہتے تھے تو گواہان کو زندہ کیوں چھوڑ دیا گیا اور پولیس نے عینی شاہدین دکانداروں کے بیانات کیوں نہ لیے رکن اسمبلی سردار خان چانڈیو کو قتل میں ملوث ثابت کرنے کے شواہد بھی نامکمل ہیں وہ وقوعہ کے روز دوسرے ضلع ٹنڈو محمد خان میں موجود تھا، ٹیلیفون کال ریکارڈ کی تفصیلات کی تصدیق سولر کمپنیوں سے نہیں کروائی گئی ان میں آواز کی ریکارڈنگ موجود نہیں جس کی وجہ سے وہ قانونی طور پر رابطے یا سازش ثابت کرنے کے لیے ناکافی ہیں ایسے لگتا ہے کہ پولیس تفتیش اور پراسیکیوشن کی تمام تر توجہ ملزمان کی بےگناہی پر مرکوز تھی یہ بھی ممکن ہے کہ ملزمان بےگناہ ہوں لیکن تین بندوں کو آخر کسی نے تو مارا ہے وہ مارنے والے آخر کون ہیں اس کا تعین کون کرے گا کیا ان کا قتل کھوہ کھاتے چلا جائے گا ام رباب اپنے پیاروں کا خون کس کے ہاتھ پر تلاش کرے یوں لگتا ہے 8سال ملزمان کی بےگناہی ثابت کرنے پر صرف ہوئے ہیں ریاست ہر شہری کی اصل وارث ہوتی ہے جس کی پیروی کرنے والا کوئی نہ ہو اس کی پیروی بھی ریاست کرتی ہے اگر یہ سارے نامزد ملزم بےگناہ تھے تو کسی پولیس اہلکار نے یہ زحمت کیوں نہ گوارا کی کہ وہ اصل قاتلوں کو ڈھونڈ نکالتا اب اس کا تعین کون کرے گا کہ ام رباب کے والد چچا اور دادا کو کس نے مارا ہے کہیں ایسا تو نہیں مقتولین نے آپس میں ایک دوسرے کو گولیاں مار دی ہوں ویسے پولیس سے کچھ بعید نہیں کہ وہ یہ کہہ دے کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے کاش عدالت فیصلہ میں اس کیس کے تحقیقات کاروں کو یہ ہی حکم دے دیتی کہ اصل قاتلوں کو 6ماہ میں عدالت میں پیش کیا جائے ورنہ تحقیقات کاروں کو سزا ملے گی ذرا غور کیجئے گا کہ پاکستان میں جرائم کیوں بڑھ رہا جس معاشرے میں انصاف ناپید ہو جائے وہاں اسی قسم کی افراتفری جنم لیتی ہے جس کا شکار پاکستان نظر آتا ہے
    آج سے 20 سال قبل لندن میں ایک قتل کیس کا بڑا چرچا تھا ایک بارہ تیرہ سال کی ایک لڑکی کی نعش دریائے ٹیمز سے ملی جس کو زیادتی کے بعد قتل کرکے دریا میں پھینک دیا گیا تھا نہ اس واقعہ کا کوئی مدعی تھا نہ ملزم کا پتہ تھا بچی بھی شکل وصورت سے برٹش نہیں لگتی تھی پاکستان میں ایسا واقعہ ہوا ہوتا تو پولیس نے لاوارث قرار دے کر دفنا کر جان چھڑوا لینی تھی لیکن چونکہ برطانیہ کی ریاست ہر شہری کی وارث تھی اس لیے پولیس نے تحقیقات کا آغاز کیا بچی اور اس کے جسم سے ملنے والے ملزم کے شواہد کے ٹیسٹ کروائے گئے کی تحقیقات پر کئی سال لگ گئے لاکھوں پاونڈ اس کی تحقیقات پر خرچ ہوئے آخر کار پولیس ملزم تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئی اور پولیس نے ملزم کو جمیکا سے جا کر گرفتار کر لیا نہ ملزم برطانیہ کا تھا نہ مقتولہ برطانیہ کی تھی لیکن چونکہ وقوعہ برطانیہ میں ہوا تھا انھوں نے بھاری رقوم خرچ کرکے اور اپنے تمام تر وسائل خرچ کر کے پوری تندہی کے ساتھ کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا اور انصاف کا بول بالا کرنے کے لیے آخری حد تک جایا گیا لیکن بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں جرم کو پرموٹ کرنے کے لیے سہولت کاری کی جاتی انصاف کی بالادستی کی حوصلہ شکنی ہو رہی ہے ریاستی اداروں کو اس پر توجہ دینی چاہیے وہ نہ ہو بات پوائنٹ آف نو ریٹرن تک جاپہنچے

    Related Posts

    شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 8 دہشتگرد ہلاک

    19 ماہ کا ریکارڈ ٹوٹ گیا! مہنگائی کی شرح اگست 2024 کے بعد بلند ترین سطح پر؛ جنگ، کشیدگی نے پاکستانیوں کا جینا محال کر دیا

    ’امیر ہو یا غریب، سب بچے میرے اپنے ہیں‘: مریم نواز کا بڑا اعلان؛ پنجاب میں 65 لاکھ روپے مالیت کے لیور ٹرانسپلانٹ اب بالکل مفت!

    مقبول خبریں

    19 ماہ کا ریکارڈ ٹوٹ گیا! مہنگائی کی شرح اگست 2024 کے بعد بلند ترین سطح پر؛ جنگ، کشیدگی نے پاکستانیوں کا جینا محال کر دیا

    جنگی جنون’ نے سونے کی قیمت گرا دی! عالمی مارکیٹ میں بڑا بریک ڈاؤن، پاکستان میں ایک تولہ کتنے کا ہوگیا؟

    ٹرمپ کے خطاب کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ، سٹاک مارکیٹس میں مندی

    ایران کو پتھر کے دور میں واپس دھکیل دینگے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا آپریشن ”ایپک فیوری“ جاری رکھنے کا اعلان

    آبنائے ہرمز کا محاصرہ ختم کرو! 35 ممالک کا ایران کو ‘الٹی میٹم’، برطانیہ کی قیادت میں بڑا سفارتی ایکشن ، امریکا منظر سے غائب!

    بلاگ

    ”قدرت سے دشمنی نہ کرو“ ملک محمد سلمان کا کالم

    ”ام رباب کو انصاف کون دے گا۔۔۔؟“ میاں حبیب کا کالم

    سول سیکرٹریٹ پنجاب میں سرد جنگ ، وزیراعظم نے بازی پلٹ دی، بیوروکریسی کی اندرونی کہانی، آصف چوہدری کی زبانی،رافعہ حیدر، ڈاکٹر انوش کی پرموشن کیوں نہ ہوئی؟ شہر بانو نقوی کا تبادلہ کیوں ؟

    ملکہ کوہسار اب کارکردگی میں بھی سب سے اوپر! ڈپٹی کمشنرآغا ظہیر عباس شیرازی کی قیادت میں مری کی تاریخی برتری، اسٹنٹ کمشنر تیمور عادل رول ماڈل قرار

    سی سیکشن کی ویڈیو وائرل، انسانیت کو شرمندہ کرنے والوں کے خلاف بڑا ایکشن

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.