تحریر:آصف چوہدری
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
ایک تعارف
اپنے بارے میں مختصراً یوں کہنا مناسب ہوگا کہ تقریباً ایک دہائی تک انگریزی روزنامے ڈیلی ڈان میں صحافتی ذمہ داریاں نبھانے کے بعد اردو کالم نویسی کی جانب آنا ابتدا میں ایک غیر فطری عمل محسوس ہوا۔ تاہم، میرے نزدیک یہ اس لیے بھی ضروری تھا کہ پاکستان میں ایک بڑی تعداد اردو صحافت کی عادی ہے، جبکہ معلومات تک رسائی انگریزی صحافت میں ایک مخصوص طبقے تک محدود رہتی ہے۔ عام قارئین تک رسائی کو وقت کی اہم ضرورت سمجھتے ہوئے بے نقاب نیوز میں میرا پہلا کالم ہے۔
اب آتے ہیں اصل موضوع کی طرف۔ پنجاب کی بیوروکریسی اس وقت ایک ایسے تنازعے کی لپیٹ میں ہے جس نے نہ صرف انتظامی شفافیت بلکہ ریاستی ڈھانچے کی غیر جانبداری پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق مقتدر حلقوں میں چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان اور سابق ڈپٹی کمشنر لاہور رافعہ حیدر کے درمیان پیدا ہونے والا بظاہر معمولی نوعیت کا معاملہ شدت اختیار کرتے ہوئے ایک وسیع تنازع میں تبدیل ہو گیا، جو بالآخر اپنے منطقی انجام کو پہنچا۔ یہ معاملہ پنجاب سے نکل کر وزیراعظم سیکرٹریٹ تک جا پہنچا، جہاں سابق ڈپٹی کمشنر کی ناکامی اور چیف سیکرٹری کی برتری کی صورت میں اس کا اختتام ہوا۔ ذرائع کے مطابق یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب گریڈ 18 کی افسر رافعہ حیدر کو اگلے گریڈ میں ترقی نہ مل سکی، اور اس فیصلے کو چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان سے جوڑا جانے لگا۔ بعد ازاں یہ تاثر مزید مضبوط ہوا جب اس کے تانے بانے مختلف سطحوں پر اسی سمت اشارہ کرنے لگے۔ بعض حلقوں کے مطابق یہ معاملہ ذاتی نہیں بلکہ گروہی اختلافات کا شاخسانہ تھا۔ یہ معاملہ اس وقت مزید سنگین ہو گیا جب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے رافعہ حیدر کو ترقی نہ دیے جانے پر سخت ناپسندیدگی کا اظہار کیا، جس کے بعد پروموشن کے پورے نظام پر سوالیہ نشان کھڑا ہو گیا۔ اطلاعات کے مطابق انہوں نے متعلقہ اداروں سے تصدیق کے بعد، کہ رافعہ حیدر کی تمام کارکردگی رپورٹس مثبت ہیں، اس کیس کی ازسرِ نو جانچ کا مطالبہ کیا۔ بعض حلقے اس صورتحال کو ایک خاتون افسر کی عزتِ نفس کو مجروح کرنے کے مترادف قرار دے رہے ہیں، جو بیوروکریسی میں صنفی برابری کے دعوؤں کے برعکس ہے۔ اہم سوال یہ ہے کہ اگر رافعہ حیدر کی سالانہ خفیہ رپورٹس (ACRs) “آؤٹ اسٹینڈنگ” تھیں، اور ان رپورٹس پر متعلقہ حکام کے دستخط بھی موجود تھے، تو پھر انہیں گریڈ 19 میں ترقی کیوں نہ دی گئی؟ کیا یہ فیصلہ واقعی میرٹ پر مبنی تھا، یا اختیارات کے استعمال نے شفافیت کو پسِ پشت ڈال دیا؟
ذرائع کے مطابق اختلاف کی ایک وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ رافعہ حیدر کو وزیر داخلہ محسن نقوی کے قریبی حلقوں میں شمار کیا جاتا تھا۔ ان کی بطور ڈپٹی کمشنر لاہور تعیناتی بھی انہی کی سفارش سے جوڑی جاتی رہی، اور انہیں اسلام آباد میں تعینات کرنے کی خواہش نے بھی اس تنازع کو ہوا دی۔ بعض اہم ذرائع کے مطابق یہی عوامل ان کی ترقی میں رکاوٹ بنے۔
جب یہ معاملہ وزیراعظم سیکرٹریٹ تک پہنچا تو دیگر افسران، جو اسی پروموشن بورڈ میں ترقی سے محروم رہے تھے، انہوں نے بھی مختلف ذرائع سے اپنا مؤقف پیش کرنا شروع کر دیا۔ ذرائع کے مطابق لاہور میں تعینات خاتون پولیس افسر ڈاکٹر انوش مسعود چوہدری، جو بطور ایس ایس پی انویسٹی گیشن اپنی کارکردگی کے باعث پہچانی جاتی ہیں، کو بھی گریڈ 19 میں ترقی نہ ملنے پر ان کا کیس وزیراعظم سیکرٹریٹ تک پہنچایا گیا۔ اسی طرح دیگر سینیئر افسران بھی، جو گریڈ 22 میں ترقی سے محروم رہے، حکومتی فیصلوں سے نالاں دکھائی دیتے ہیں اور اپنے کیسز متعلقہ قانونی فورمز پر لے جا چکے ہیں۔ ان افسران کا مؤقف ہے کہ ان کی محکمانہ رپورٹس میں کسی قسم کی کمی یا منفی پہلو کی نشاندہی نہیں کی گئی۔ رافیہ حیدر کے کیس نے اس وقت نیا رخ اختیار کیا جب پروموشن بورڈ کے فیصلوں پر کھل کر تنقید سامنے آنے لگی۔ ذرائع کے مطابق دورانِ بحث یہ انکشاف بھی ہوا کہ بعض ایسے افسران کو ترقی دے دی گئی جن کے خلاف منفی رپورٹس موجود تھیں۔ اس عمل نے اس تاثر کو مزید تقویت دی کہ بیوروکریسی میں من پسند افراد کو نوازنے کا رجحان مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔ اسی پس منظر میں ایک اور پہلو بھی سامنے آیا کہ پنجاب میں بعض ایسے افسران کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جو مخصوص حلقوں سے وابستہ سمجھے جاتے ہیں۔ لاہور میں تعینات ایک خاتون پولیس افسر کا حالیہ تبادلہ بھی اسی سلسلے کی کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیر داخلہ نے اس صورتحال کے پیش نظر بعض افسران کو متبادل اداروں میں تعیناتی دے کر ایک محفوظ راستہ فراہم کرنے کی کوشش کی۔
ان کے علاوہ بعض سینئر افسران جن میں ایک سیکرٹری ، جو اعلیٰ سطح پر فیصلہ سازی میں شامل نہیں، خود کو مسلسل دباؤ کا شکار محسوس کر رہے ہیں۔ یہ تمام پیش رفت اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ بیوروکریسی کے اندر ایک غیر اعلانیہ کشمکش جاری ہے، جس کے اثرات انتظامی فیصلوں پر واضح طور پر مرتب ہو رہے ہیں۔
آخرکار، ایک ہنگامی پیش رفت کے تحت سابق ڈپٹی کمشنر لاہور رافعہ حیدر کے کیریئر سے متعلق معاملات کو براہِ راست وزیراعظم شہباز شریف کے سامنے فیصلہ کن مرحلے کے لیے پیش کیا گیا، جہاں اس تنازع کے حتمی انجام کا فیصلہ ہو گیاجب وزیر اعظم نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے فیصلے کو برقرار رکھا۔


ایک تعارف