جاپان کے شہر کوماموٹو کی سڑکوں پر ایک ایسا منظر دیکھنے کو ملتا ہے جو پہلی نظر میں مضحکہ خیز لیکن حقیقت میں انتہائی مشکل اور تھکا دینے والا ہے۔ ہیلمٹ اور حفاظتی پیڈز پہنے درجنوں دفتری ملازمین اپنی دفتری کرسیوں پر بیٹھے اسٹارٹ لائن پر کھڑے ہوتے ہیں اور ہارن بجتے ہی اپنی ٹانگوں کی پوری قوت سے زمین کو پیچھے دھکیلتے ہوئے کرسیوں کوپیچھے کی طرف تیزی سے دوڑانا شروع کر دیتے ہیں۔
The Isu-1 Grand Prix, a two-hour endurance event in Japan where teams race through the streets on standard office chairs. pic.twitter.com/iFOOaHplnK
— The Best (@Thebestfigen) March 26, 2026
ایشو-1 گرینڈ پری: ایک جنون
اس کھیل کو ‘ایشو-1 گرینڈ پرکس’ (Isu-1 Grand Prix) کہا جاتا ہے، جس کی بنیاد 2010 میں سویوشی تاہارا نے رکھی۔ تاہارا کو یہ آئیڈیا اپنے بچپن کے اس استاد سے ملا جنہوں نے انہیں کبھی کرسی سے کھیلنے پر ڈانٹا تھا۔ آج یہ کھیل جاپان کے 10 بڑے شہروں بشمول ٹوکیو اور کیوٹو میں پھیل چکا ہے، جہاں ٹویوٹا جیسی بڑی کمپنیاں بھی اپنی ٹیمیں بھیجتی ہیں۔
کھیل کے اصول ، چیلنجز
ٹیم ورک: ہر ٹیم 3 ارکان پر مشتمل ہوتی ہے جو دو گھنٹے تک مسلسل لیپس (Laps) مکمل کرتے ہیں۔
فاصلہ: جیتنے والی ٹیمیں دو گھنٹے میں تقریباً 20 سے 25 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتی ہیں۔
صرف عام کرسیاں: ریس میں صرف وہی کرسیاں استعمال کی جا سکتی ہیں جو عام طور پر دفاتر میں دستیاب ہوتی ہیں۔ کسی بھی قسم کی تبدیلی یا ‘کسٹمائزیشن’ کی اجازت نہیں ہوتی۔
انعام: جیتنے والی ٹیم کو 90 کلوگرام چاول دیے جاتے ہیں، جبکہ ٹوکیو میں انعام 5 کلو ٹیونا مچھلی ہوتی ہے۔
سخت ٹریننگ اور فارمولا ون کا خواب
یاسونوری میورا جیسے کھلاڑی اس ریس کے لیے ہفتے میں چار بار ٹریننگ کرتے ہیں۔ وہ بھاری کرسیوں کے ساتھ 200 میٹر کی درجنوں دوڑیں لگاتے ہیں تاکہ ان کی ٹانگوں کے پٹھے مضبوط ہو سکیں۔ تاہارا کا خواب ہے کہ وہ ایک دن اس ‘آفس چیئر ریس’ کو موناکو کے اس مشہور سرکٹ پر لے جائیں جہاں فارمولا ون (F1) ریس ہوتی ہے۔
سویوشی تاہارا کے مطابق: "جاپانی لوگ بہت زیادہ کام کرتے ہیں، لیکن وہ اس طرح کی ‘احمقانہ’ چیز کے لیے بھی مکمل طور پر وقف ہو سکتے ہیں اور بڑھاپے میں بھی اس سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔”

