بیجنگ/ شنگھائی (نیوز ڈیسک): چین کے ٹیک ایونٹس میں آج کل ہر جگہ ’لوبسٹرز‘ (Lobsters) نظر آ رہے ہیں، لیکن یہ کسی ضیافت کے لیے نہیں بلکہ دنیا کے نئے اور طاقتور ترین اے آئی ٹول "OpenClaw” کی علامت ہیں۔ یہ محض ایک عام چیٹ بوٹ نہیں، بلکہ ایک ایسا خودمختار "ڈیجیٹل ایجنٹ” ہے جو آپ کے فون اور لیپ ٹاپ کا کنٹرول سنبھال کر خودکار طریقے سے ایپس چلاتا اور پیچیدہ کام سرانجام دیتا ہے۔
اگلا چیٹ جی پی ٹی: انسانی تاریخ کا مقبول ترین پراجیکٹ
اینویڈیا (Nvidia) کے سی ای او جینسن ہوانگ نے اسے "اگلا چیٹ جی پی ٹی” اور انسانی تاریخ کا مقبول ترین اوپن سورس منصوبہ قرار دیا ہے۔ چین میں اس کا جنون اس قدر ہے کہ لوگ اسے اپنانے کو "لوبسٹر فارمنگ” کا نام دے رہے ہیں اور اس کی انسٹالیشن کے لیے ماہرین کو بھاری فیسیں ادا کی جا رہی ہیں۔
وائٹ کالرملازمتوں پر لٹکتی تلوار
جہاں چینی حکومت اس ٹول کو معاشی ترقی کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہے، وہیں وائٹ کالر ملازمین اور سافٹ ویئر انجینئرز میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق:
کوڈنگ اور کلرک لیول کے کام اب 100 فیصد اے آئی کے سپرد ہو سکتے ہیں۔
نوجوان طالب علموں کا کہنا ہے کہ وہ جس مستقبل کے لیے پڑھ رہے ہیں، شاید وہ نوکریاں تب تک وجود ہی نہ رکھیں۔
لوگوں میں یہ خوف ہے کہ اگر انہوں نے "اوپن کلا” نہ سیکھا تو وہ جدید دنیا کی دوڑ میں پیچھے رہ جائیں گے۔
سیکیورٹی رسک: فائدہ یا تباہی؟
ایک طرف کارکردگی میں حیران کن اضافہ ہو رہا ہے، تو دوسری طرف چینی حکام نے خبردار کیا ہے کہ یہ ٹول ڈیٹا لیکس اور ریموٹ ہیکنگ کا سنگین ذریعہ بن سکتا ہے۔ اس کی مدد سے ہیکرز کسی کے بھی ڈیوائس کا مکمل کنٹرول حاصل کر سکتے ہیں۔
ایک خطرناک ‘گیم چینجر
ماہرین کا کہنا ہے کہ "اوپن کلا” ایک ایسا اسپرنگ ہے جو کھل چکا ہے۔ یہ انسانی محنت کو کم تو کر رہا ہے لیکن ساتھ ہی انسانوں کو غیر متعلقہ (Irrelevant) بنانے کی طرف پہلا بڑا قدم بھی ثابت ہو سکتا ہے۔
”چیٹ جی پی ٹی بھی فارغ”: چین میں مصنوعی ذہانت کا ’اوپن کلا‘ انقلاب، کیا انسانوں کی چھٹی ہونے والی ہے؟

