اسلام آباد ہائیکورٹ نے ٹک ٹاکر ڈاکٹر فضیلہ عباسی کے خلاف 25 ارب روپے کی مشکوک ٹرانزیکشنز اور منی لانڈرنگ کیس میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے ایک مقدمہ کالعدم قرار دے دیا، جبکہ دیگر تحقیقات جاری رکھنے کا حکم دیا ہے۔
عدالت میں پیش کیے گئے ریکارڈ کے مطابق ڈاکٹر فضیلہ عباسی کے 22 بینک اکاؤنٹس میں 25 ارب روپے کے ٹرن اوور کا انکشاف ہوا تھا، جبکہ ان کی ظاہر کردہ سالانہ آمدن صرف 4 سے 6 لاکھ روپے بتائی گئی۔
مقدمے میں یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے غیر قانونی طور پر رقوم امریکا اور متحدہ عرب امارات (دبئی) منتقل کیں۔
یادرہے کہ ڈاکٹر فضیلہ عباسی معروف اداکار حمزہ علی عباسی کی بہن ہیں۔جسٹس خادم حسین سومرو نے تینوں کیسز پر تحریری فیصلے جاری کیے۔ عدالت نےبینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کے خلاف درخواست کو نمٹا دیا۔
25 ارب روپے کی ٹرانزیکشنز اور منی لانڈرنگ کیس خارج کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔تیسرے کیس میں منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت کارروائی کو غیر قانونی قرار دیدیا
25 ارب روپے کی ٹرانزیکشنز اور منی لانڈرنگ کیس خارج کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔تیسرے کیس میں اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کے تحت کارروائی کو غیر قانونی قرار دے دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے کیس میں طے شدہ قانونی طریقہ کار پر مکمل عمل نہیں کیا اور بعض مقامات پر اختیارات سے تجاوز کیا۔تاہم عدالت نے ایف آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ قانون کے مطابق شفاف تحقیقات جاری رکھے۔ عدالت کے مطابق حوالہ ہنڈی اور مشکوک ٹرانزیکشنز کے ذریعے منی لانڈرنگ کے بظاہر شواہد موجود ہیں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ تحقیقاتی ادارہ ضرورت پڑنے پر اکاؤنٹس ڈی فریز کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ اگر الزامات ثابت نہ ہوئے تو اکاؤنٹس فوری طور پر بحال (ڈی فریز) کیے جائیں گے۔

