لندن :عمران خان کے بیٹےقاسم خان پرسوشل میڈیا میں تنقید کی جارہی ہے کہ انہوں نے حکومت پاکستان کے خلاف لائبنگ کی جبکہ قاسم خان وضاحت کر چکے ہیں کہ انھوں نے جی ایس پی پلس درجہ ختم کرنے کا کوئی مطالبہ نہیں کیا۔
بی بی سی کے مطابق اقوام متحدہ انسانی حقوق کونسل کے سامنے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے قاسم خان کا کہنا تھا کہ انھیں پاکستان میں عدم برداشت اور ظلم و جبر کے بڑھتے ہوئے رحجان پر ’شدید تشویش‘ ہے۔
م ایک منظم مہم دیکھ رہے ہیں جس کا مقصد آبادی کے مخصوص طبقات کو انسانی حقوق سے محروم کرنا اور انھیں خاموش کرنا ہے۔‘’تین سال سے زیادہ کا عرصہ ہو گیا، میں انھیں دیکھ تک نہیں پایا ہوں۔‘
قاسم خان کے مطابق ان کے والد ’ایک ایسی حکومت کا مرکزی ہدف ہیں جو اختلاف رائے کو ایک سیاسی یا نظریاتی اختلاف نہیں سمجھتی، بلکہ ایک سنگین جرم سمجھ کر اسے کچل دینا چاہتی ہے۔
قاسم خان نے بتایا کہ ان کے والد عمران خان کو ایک ایسی کوٹھڑی میں قید تنہائی میں رکھا گیا ہے جو در اصل سزائے موت کے قیدیوں کے لیے بنائی گئی تھی۔
قاسم خان کے مطابق ان کے والد پر باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت ظلم کیا جا رہا ہے اور ’اقوام متحدہ کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جن حالات میں عمران خان کو قید میں رکھا گیا ہے وہ اس قدر غیر انسانی ہیں کہ تشدد کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔‘
قاسم خان کا کہنا تھا کہ عدم برداشت کا سلسلہ صرف ان کے والد تک محدود نہیں۔
انھوں نے بتایا: ’پاکستان نے اپنے توہینِ مذہب کے قوانین کو اس حد تک سخت کردیا ہے کہ اب ان کے تحت عمر قید کی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔ شہریوں کو دہشت گرد قرار دینے کا سلسلہ بھی جاری ہے، جس سے نفرت کا ماحول پیدا ہو رہا ہے۔‘
قاسم خان نے اقوام متحدہ انسانی حقوق کونسل سے مطالبہ کیا کہ پاکستان پر دباؤ ڈال کر ’اس ظلم کو فوراً ختم کرائے اور میرے والد سمیت تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرایا جائے۔‘
ایک منٹ سات سیکنڈ دورانیے کی قاسم خان کی یہ تقریر اقوام متحدہ کی ویب سائٹ پر بھی موجود ہے اور خود انھوں نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کی ہے۔
بی بی سی کے مطابق اس میں کہیں بھی پاکستان کے جی ایس پی پلس درجے کی بات تک نہیں ہوئی۔
کیا قاسم خان نے پاکستان کے خلاف لابیئنگ کی؟ بی بی سی اور یو این ریکارڈز نے حقیقت کھول دی

